پاسبان نیوز لاہور— پنجاب حکومت نے شوگر کرشنگ سیزن 2025-26 کے لیے شوگرکین ڈیولپمنٹ سیس کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت سیس کی شرح 5 روپے فی 40 کلو گرام برقرار رکھی گئی ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے زرعی اور کاروباری شعبے کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد کسانوں کو اضافی مالی دباؤ سے بچانا اور شوگر انڈسٹری میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق شوگرکین ڈیولپمنٹ سیس کی وصولی پنجاب فنانس ایکٹ 1964 کے تحت کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سیس سے حاصل ہونے والی رقم کو دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت، زرعی انفراسٹرکچر کی بہتری اور گنے سے متعلق تحقیق و ترقی پر خرچ کیا جائے گا، تاکہ شوگرکین کی پیداوار، معیار اور کسانوں کی مجموعی آمدن میں اضافہ ممکن ہو سکے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق موجودہ معاشی حالات اور زرعی لاگت میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے سیس میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف کاشتکاروں کو ریلیف ملے گا بلکہ شوگر ملز اور متعلقہ کاروباری حلقوں کے لیے بھی لاگت میں استحکام رہے گا، جس کا مثبت اثر چینی کی مجموعی سپلائی چین پر پڑنے کی توقع ہے۔
ماہرینِ زراعت اور کاروباری نمائندوں کا کہنا ہے کہ سیس کو برقرار رکھنا ایک متوازن پالیسی فیصلہ ہے، کیونکہ اس سے حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل بھی میسر آئیں گے اور کسانوں پر اضافی بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔ ان کے مطابق اگر سیس کی رقم شفاف طریقے سے تحقیق، سڑکوں اور دیہی ترقی پر خرچ کی گئی تو اس کے طویل المدتی فوائد شوگرکین کے کاشتکاروں اور قومی معیشت دونوں کو حاصل ہوں گے۔


