پاسبان نیوز لاہور: پنجاب میں آبادی میں اضافے اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس کی صدارت وزیر اعلیٰ پنجاب کی کوآرڈینیٹر برائے آبادی اور ممبر قومی اسمبلی سائرہ افضل تارڑ نے کی۔
اجلاس میں اسپیشل سیکریٹری ہیلتھ عون عباس بخاری، ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفیئر ڈاکٹر اورنگزیب، پروگرام ڈائریکٹر پنجاب فیملی پلاننگ پروگرام ڈاکٹر عثمان علی خان، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سمیت محکمہ صحت و آبادی اور پنجاب فیملی پلاننگ پروگرام کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں پنجاب میں آبادی میں تیزی سے اضافے اور محکمہ صحت و آبادی کی جانب سے فراہم کی جانے والی خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سائرہ افضل تارڑ نے مریم نواز ہیلتھ کلینکس اور مریم نواز ہسپتالوں میں فراہم کی جانے والی خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے عوام کو خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کی بہتر سہولیات میسر آ رہی ہیں۔
تاہم انہوں نے تحصیل اور ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کے علاوہ سپیشل آئزڈ ہسپتالوں میں طویل مدتی مانع حمل سہولیات کی فراہمی پر تشویش کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ ان اداروں میں سروس ڈیلیوری کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کو عوام کی دہلیز تک پہنچایا جائے اور طویل مدتی مانع حمل سہولیات کلینکس آن وہیلز اور موبائل ہسپتالوں کے ذریعے بھی فراہم کی جائیں، جبکہ متعلقہ عملے کو جدید مانع حمل طریقوں پر مکمل تربیت دی جائے۔
اس موقع پر پروگرام ڈائریکٹر پنجاب فیملی پلاننگ پروگرام ڈاکٹر عثمان علی خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز گھروں کی دہلیز پر امپلانٹ سمیت طویل مدتی مانع حمل طریقے فراہم کریں گے، جبکہ قلیل مدتی مانع حمل سہولیات 83 ہزار سے زائد لیڈی ہیلتھ ورکرز، کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز اور فیملی ویلفیئر ورکرز کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت و آبادی صوبہ بھر میں گھروں کی دہلیز پر بنیادی صحت کی خدمات کی سو فیصد فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران سرکاری صحت مراکز میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد خواتین کو طویل مدتی مانع حمل سہولیات فراہم کی گئیں۔
ڈاکٹر عثمان علی خان نے مزید بتایا کہ محکمہ صحت و آبادی اور پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے انضمام سے قبل مانع حمل اشیاء کی دستیابی 55 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 90 فیصد سے زائد ہو چکی ہے اور یہ سہولیات سرکاری صحت مراکز میں عوام کو مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کی تعیناتی سے وہ علاقے بھی کور ہو جائیں گے جہاں لیڈی ہیلتھ ورکرز موجود نہیں تھیں۔ اجلاس میں ان صحت مراکز میں جو آؤٹ سورس نہیں کیے گئے خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ تمام ٹرشری کیئر ہسپتالوں، ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں اور دیہی مراکز صحت میں بالخصوص طویل مدتی مانع حمل طریقوں کی خدمات کو مؤثر بنایا جائے۔
سائرہ افضل تارڑنے کہا کہ آبادی میں کمی کے ساتھ ساتھ بچوں کے درمیان مناسب وقفہ ماں اور بچے کی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کے حوالے سے کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لینے کے لیے ایسے اجلاس مستقل بنیادوں پر منعقد کیے جائیں گے ۔


