تازہ ترین
ایشال شوکت: پاکستان کی کم عمر ماحولیاتی اور انسانی خدمت کی عالمی رہنما February 8, 2026 گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مٹو کے اعزاز میں صدر پاکستان انویسٹرز فورم چوہدری شفقت محمود دھول کی جانب سے جدہ میں پروقار عشائیہ February 8, 2026 ہائی کمیشنِ سری لنکا، اسلام آباد میں سری لنکا کی آزادی کی 78ویں سالگرہ باوقار انداز میں منائی گئی February 6, 2026 وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026

سابق اسرائیلی ملٹری انٹیلیجنس سربراہ کا آڈیو لیک میں شرمناک اعتراف 

سابق اسرائیلی ملٹری انٹیلیجنس سربراہ نے آڈیو لیک میں شرمناک اعتراف کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں 50 ہزار فلسطینیوں کا مرنا ضروری اور لازمی تھا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے ملٹری انٹیلیجنس کے سابق سربراہ میجر جنرل اہارون حلیوا کی ایک آڈیو ریکارڈنگ لیک ہو گئی ہے، جس میں سابق سربراہ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ غزہ میں دسیوں ہزار فلسطینیوں کی ہلاکتیں ’آنے والی نسلوں کے لیے ضروری اور لازمی ہیں۔‘

اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) کے میجر جنرل کہتا سنائی دیتا ہے ’’7 اکتوبر کو جو کچھ ہوا، اس دن مرنے والے ہر ایک فرد کے بدلے میں 50 فلسطینیوں کو مرنا چاہیے، چاہے وہ بچے ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘

اسرائیل کے چینل 12 نیوز پر جاری کردہ ریکارڈنگز میں سابق سربراہ کہتا ہے ’’یہ حقیقت کہ غزہ میں اب تک 50,000 لوگ مارے جا چکے ہیں، آنے والی نسلوں کے لیے یہ ضروری اور لازمی ہے۔‘‘ یہ واضح نہیں کہ یہ گفتگو کب کی ہے، لیکن غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد مارچ میں 50,000 سے تجاوز کر چکی تھی۔

حلیوا نے مزید کہا ’’کوئی چارہ نہیں کہ ہر کچھ عرصے بعد انھیں (فلسطینیوں کو) ایک ’نکبہ‘ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ قیمت محسوس کریں۔‘‘ خیال رہے کہ نکبہ ایک عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں تباہی۔ یہ فلسطینی تاریخ کا ایک مرکزی واقعہ ہے، جب 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے دوران تقریباً 700,000 فلسطینی اپنے گھروں سے نکالے گئے یا فرار پر مجبور کیے گئے۔

دوسری طرف حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ملٹری انٹیلیجنس کے سابق سربراہ کا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف جرائم اسرائیل کی سرکاری پالیسی ہے