تازہ ترین
ہائی کمیشنِ سری لنکا، اسلام آباد میں سری لنکا کی آزادی کی 78ویں سالگرہ باوقار انداز میں منائی گئی February 6, 2026 وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026

ٹریڈ ایکسپو انڈونیشیا 2025: انڈونیشیا اور پاکستان کے اقتصادی تعلقات میں نیا فروغ

جکارتہ: اسلام آباد میں جمہوریہ انڈونیشیا کے سفارت خانے نے کراچی میں انڈونیشیا کے قونصل خانے، انڈونیشین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KADIN)، اور انٹرنیشنل کریئیٹیوز ایکسچینج (ICE) کے اشتراک سے “انڈونیشیا–پاکستان اکنامک نیٹ ورکنگ فورم 2025: مشترکہ مستقبل کی تعمیر” کے عنوان سے ایک فورم کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب 40ویں ٹریڈ ایکسپو انڈونیشیا (TEI) 2025 کے موقع پر منعقد ہوئی جس میں سینکڑوں کاروباری شخصیات، سرکاری عہدیداران، اور بزنس لیڈرز نے شرکت کی، جن میں 60 پاکستانی صنعت کار بھی شامل تھے۔

انڈونیشین حکومت کی جانب سے شرکاء میں شامل نمایاں شخصیات میں جناب رِکی ایکا ورگانا اچسان (ڈائریکٹر برائے جنوبی و وسطی ایشیا، وزارتِ خارجہ انڈونیشیا) اور جناب محمد اقبال (ڈپٹی ڈائریکٹر برائے سرمایہ کاری فروغ برائے مشرقی و جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ و افریقہ، وزارتِ سرمایہ کاری انڈونیشیا) شامل تھے۔ کاروباری طبقے کی نمائندگی جناب ہارمن سِسوانتو (نائب چیئرمین برائے پاکستان و افغانستان، KADIN)، جناب اُزیر نظام (صدر، پاکستان–انڈونیشیا بزنس اینڈ کلچرل نیٹ ورک)، جناب محمد باوزیر (چیئرمین، باوزیر گروپ)، اور جناب ایوب گبا (K2 انڈسٹریز، کراچی) نے کی۔

اپنے خطاب میں پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر جناب چندرا ڈبلیو. سوکوچو نے دوطرفہ تجارت کی مضبوطی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا:
“جنوری سے جولائی 2025 کے دوران انڈونیشیا کی پاکستان کو برآمدات 2.16 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 21.83 فیصد اضافہ ہے۔ تاہم، ہماری باہمی صلاحیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔”
انہوں نے دونوں ممالک کے کاروباری طبقے پر زور دیا کہ وہ فارماسیوٹیکل، حلال انڈسٹری، قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل اکانومی، اور زرعی ٹیکنالوجی جیسے نئے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں۔

انڈونیشین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب چیئرمین جناب برنارڈینو ایم. ویگا نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ محض تجارتی اعدادوشمار سے آگے بڑھتے ہوئے عوامی رابطوں اور تخلیقی تعاون کو مستحکم کریں۔ ان کا کہنا تھا:
“دنیا بدل رہی ہے اور کاروباری ماڈل بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ ہمیں تخلیقی اور قدر بڑھانے والے اشتراک کی طرف جانا ہوگا۔ انڈونیشیا اور پاکستان کے پاس عظیم اثاثے ہیں — دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی، تخلیقی صلاحیت اور باہمی تعاون کا جذبہ۔”

پاکستانی سفارتخانے کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ اتاشی جناب نسیم راشد نے اس موقع پر کہا کہ پاکستانی حکومت دونوں ممالک کے کاروباروں کے درمیان براہِ راست تعاون (B2B) کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا:
“دو بڑے مسلم ممالک ہونے کے ناطے، جن کے درمیان دیرینہ دوستی ہے، ہمارے اقتصادی تعلقات کو اس صلاحیت کا مظہر بننا چاہیے۔ جکارتہ میں پاکستانی سفارت خانہ تجارت، سرمایہ کاری، اور ثقافتی تعاون کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔”

فورم کے دوران دو پینل مباحثے منعقد ہوئے جن میں پاکستان اور انڈونیشیا کے ماہرین نے تجارتی مواقع، مارکیٹ تک رسائی، اور مشترکہ سرمایہ کاری کے امکانات پر گفتگو کی۔ خاص طور پر انڈونیشیا–پاکستان ٹریڈ ان گڈز ایگریمنٹ (IP-TIGA) کے نفاذ پر بات چیت ہوئی، جس کا مقصد تجارتی دائرہ کار کو وسعت دینا اور محصولات و غیر محصولات رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔

تقریب کے دوران انڈونیشیا کی وزارتِ سرمایہ کاری نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان جنوبی ایشیائی ممالک میں انڈونیشیا میں سرمایہ کاری کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے، جس کی سرمایہ کاری 36.6 ملین امریکی ڈالر تک پہنچی۔ وزارت نے مستقبل میں قابلِ تجدید توانائی، فارماسیوٹیکل، اور حلال انڈسٹری میں تعاون کے امکانات پر زور دیا۔

دونوں برادر اسلامی ممالک کے باہمی تعلقات کی سالگرہ کے موقع پر اس تقریب میں دو کتابوں کی رونمائی اور کئی مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے۔ ان میں شامل کتابیں تھیں:

  • “75 سالہ انڈونیشیا–پاکستان تعلقات: دو دوست، ایک جذبہ” (مصنف: عطاالکریم)
  • “اسلام آباد سے جکارتہ: ایک ذاتی مشاہدہ” (مصنف: شمز عباسی)

جبکہ مفاہمتی یادداشتوں میں انٹرنیشنل کریئیٹیوز ایکسچینج (ICE) اور گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان معاہدہ، نیز پاکستان کی ہارمن فارماسیوٹیکل اور انڈونیشیا کی PT. Ultra Sakti کے درمیان اشتراک شامل تھا۔

ٹریڈ ایکسپو انڈونیشیا ملک کی سب سے بڑی سالانہ بین الاقوامی تجارتی نمائش ہے، جو انڈونیشیا کی بہترین برآمدی مصنوعات و خدمات کو پیش کرتی ہے۔ یہ نمائش انڈونیشیا کو ایک قابلِ اعتماد تجارتی و سرمایہ کاری شراکت دار کے طور پر اجاگر کرتی ہے، اور عالمی خریداروں کو مینوفیکچرنگ، زراعت، ڈیجیٹل اکانومی، اور تخلیقی صنعتوں سے تعلق رکھنے والے انڈونیشی ایکسپورٹرز سے جوڑتی ہے۔