تازہ ترین
ہائی کمیشنِ سری لنکا، اسلام آباد میں سری لنکا کی آزادی کی 78ویں سالگرہ باوقار انداز میں منائی گئی February 6, 2026 وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026

ہم عمروں کا دباؤ اور اخلاقی سمجھوتہشناخت اور مقبولیت کا فریب

تحریر :عاطف ایوب بٹ

یونیورسٹی آف چناب میں گذشتہ روز ایک انتہائی اہم نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں پروفیسر شیخ عبدالرشید کی گفتگو آج کے نوجوان کے لیے ایک سنجیدہ فکری پیغام تھی۔” ہم عمروں کا دباؤ اور اخلاقی سمجھوتہ“ محض ایک نفسیاتی موضوع نہیں بلکہ ایک سماجی چیلنج بن چکا ہے جو تعلیمی اداروں سے نکل کر پورے معاشرے کو متاثر کر رہا ہے۔
نوجوانی وہ عمر ہے جہاں انسان اپنی شناخت بناتا ہے، مگر بدقسمتی سے آج شناخت اصولوں سے نہیں بلکہ مقبولیت کے پیمانوں سے ناپی جاتی ہے۔ دوستوں کی واہ واہ، گروہ کا حصہ بننے کی خواہش اور سوشل میڈیا کی توجہ نوجوان کو اس مقام تک لے آتی ہے جہاں وہ آہستہ آہستہ اپنے اخلاقی اصولوں سے دستبردار ہو جاتا ہے۔
پروفیسر شیخ عبدالرشید نے بجا طور پر اس امر کی نشاندہی کی کہ صرف مقبول ہونے یا کسی گروہ میں شامل رہنے کے لیے اپنے ذاتی کردار اور سچائی سے سمجھوتہ کرنا فکری کمزوری کی علامت ہے۔ وقتی قبولیت انسان کو وقتی خوشی تو دے سکتی ہے، مگر طویل المدت میں یہی رویہ ذہنی الجھن، خود اعتمادی کی کمی اور اخلاقی خلا کو جنم دیتا ہے۔
ہم عمروں کا دباؤ ہر صورت منفی نہیں ہوتا، لیکن جب یہ دباؤ نوجوان کو جھوٹ، نقل، بددیانتی، غیر ذمہ دارانہ طرزِ زندگی یا غلط طرزِ فکر کی طرف لے جائے تو یہ دباؤ نہیں بلکہ اخلاقی زوال کا راستہ بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نوجوان ہر اس کام کو درست مان لے جو اکثریت کر رہی ہو؟ یا پھر سچ اور غلط کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کرے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں نوجوان کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ بھیڑ کا حصہ بننا چاہتا ہے یا اپنے ضمیر کی آواز پر چلنا چاہتا ہے۔ یہی فیصلہ اس کی آئندہ زندگی کا رخ متعین کرتا ہے۔