
دو سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کے اہل خانہ، وکلا اور سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں ’قید تنہائی‘ میں رکھا گیا ہے۔ لیکن پاکستانی حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق عمران خان کی جیل میں اب تک 870 ملاقاتیں ہوئی ہیں۔
دو دسمبر کو تقریباً ایک مہینے بعد سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ملاقات ان کی بہن عظمیٰ خان سے کروائی گئی تھی جس کے بعد صحافیوں سے مختصر بات کرتے ہوئے عظمیٰ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ’صحت الحمد اللہ ٹھیک ہے مگر وہ بہت غصے میں تھے اور کہہ رہے تھے کہ انھیں ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
عظمیٰ خان کے مطابق ان کی عمران خان سے ملاقات 20 منٹ پر محیط تھی اور انھیں ان کے بھائی نے مزید بتایا کہ انھیں ’پورا دن کمرے میں بند رکھا جاتا ہے، صرف تھوڑی دیر کمرے سے نکلنے دیا جاتا ہے۔‘ گذشتہ روز بھی راولپنڈی کی اڈیالہ روڈ پر عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے سابق وزیراعظم سے ملاقات نہ کروائے جانے کے خلاف دھرنا دیا گیا تھا، جسے بعد میں پولیس نے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے ختم کروایا۔






