تازہ ترین
ہائی کمیشنِ سری لنکا، اسلام آباد میں سری لنکا کی آزادی کی 78ویں سالگرہ باوقار انداز میں منائی گئی February 6, 2026 وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026

پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود پر پابندی میں توسیع کر دی، نئی مدت 23 جنوری 2026 تک

پاسبان نیوز اسلام آباد:
پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود پر عائد پابندی میں ایک بار پھر توسیع کر دی ہے، جو اب 23 جنوری 2026 تک برقرار رہے گی۔ یہ بات پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) کی جانب سے جاری بیان میں بتائی گئی۔

اتھارٹی کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود تمام بھارتی رجسٹرڈ طیاروں کے لیے بند رہیں گی، جن میں بھارتی ایئرلائنز کے زیرِ ملکیت، زیرِ استعمال یا لیز پر لیے گئے طیارے اور بھارتی فوجی پروازیں بھی شامل ہیں۔ پابندی سے متعلق نیا نوٹس ٹو ایئر مین جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت پہلے سے نافذ یہ اقدام مقررہ اوقات کے مطابق 23 جنوری 2026 تک جاری رہے گا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی حدود کی باہمی بندش اپریل 2025 سے جاری ہے، جس کی وجہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والا وہ حملہ بنا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نئی دہلی نے اس حملے کا الزام اسلام آباد پر عائد کیا، تاہم پاکستان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔

بعد ازاں مئی کے اوائل میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں کئی دہائیوں میں سب سے شدید فوجی تصادم دیکھنے میں آیا۔ اس کے بعد سے دونوں جوہری طاقتوں کے تعلقات بدستور تناؤ کا شکار ہیں اور اعتماد سازی کے اقدامات تعطل کا شکار ہیں۔

ماہرینِ ہوا بازی کے مطابق فضائی حدود کی مسلسل بندش سے علاقائی اور بین الاقوامی فضائی ٹریفک متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث پروازوں کا دورانیہ اور ایئرلائنز کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان فضائی اور سفارتی سطح پر کشیدگی میں فوری کمی کے آثار نظر نہیں آتے۔