تازہ ترین
ہائی کمیشنِ سری لنکا، اسلام آباد میں سری لنکا کی آزادی کی 78ویں سالگرہ باوقار انداز میں منائی گئی February 6, 2026 وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026

عمران خان کے صاحبزادوں کا پاکستان آنے کا اعلان، سابق وزیراعظم کی جیل میں حالت پر تشویش

دبئی/لندن: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادوں قاسم خان اور سلیمان خان نے جنوری میں پاکستان آنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے والد کی جیل میں قید کے حالات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کو لندن میں دیے گئے ایک انٹرویو میں، قاسم اور سلیمان خان نے صحافی یلدا حکیم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان کو جن حالات میں رکھا گیا ہے وہ “انتہائی خراب” ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد کو بنیادی سہولیات میسر نہیں اور جیل میں ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے، تاہم پاکستان کی حکومت ان الزامات کی بارہا تردید کر چکی ہے۔

یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان کی قید کے معاملے پر سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حال ہی میں عمران خان کی بہنوں کی جانب سے اڈیالہ جیل کے باہر دیا گیا احتجاجی دھرنا پولیس نے واٹر کینن کے ذریعے منتشر کر دیا تھا۔

قاسم خان نے بتایا کہ انہوں نے اور ان کے بھائی سلیمان خان نے پاکستان آنے کے لیے ویزوں کی درخواست دے دی ہے اور امید ہے کہ وہ جنوری میں اپنے والد سے ملاقات کے لیے پاکستان کا سفر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے پہلے یہ بیان دیا جا چکا ہے کہ عمران خان کے صاحبزادے اپنے والد سے ملاقات کر سکتے ہیں، تاہم عدالتی احکامات کے باوجود اہلِ خانہ کو ملاقاتوں میں درپیش مشکلات نے سابق وزیراعظم کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق عمران خان کی جیل میں قید اور ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات آنے والے دنوں میں ملکی سیاست پر مزید اثر انداز ہو سکتے ہیں۔