تازہ ترین
ہائی کمیشنِ سری لنکا، اسلام آباد میں سری لنکا کی آزادی کی 78ویں سالگرہ باوقار انداز میں منائی گئی February 6, 2026 وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026

انقلاب منچو کے ترجمان اور ڈھاکہ-8 سے ممکنہ امیدوار عثمان ہادی انتقال کر گئے

انقلاب منچو کے ترجمان اور آئندہ قومی انتخابات میں ڈھاکہ-8 سے ممکنہ امیدوار عثمان ہادی انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی تصدیق ان کے آفیشل فیس بک پیج کے ذریعے کی گئی ہے، جہاں اہلِ خانہ اور تنظیمی ساتھیوں کی جانب سے افسوسناک خبر شیئر کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق عثمان ہادی گزشتہ چند روز سے سنگاپور کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج تھے، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ انہیں گزشتہ جمعہ (12 دسمبر) کو ایک فائرنگ کے واقعے میں شدید زخمی کیا گیا تھا، جب دو نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کی۔ واقعے کے فوراً بعد انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی، جس کے بعد بہتر علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا تھا۔

عثمان ہادی کے انتقال پر سیاسی و سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک متحرک سیاسی کارکن، مؤثر ترجمان اور عوامی مسائل پر دوٹوک مؤقف رکھنے والی آواز تھے۔ ان کی ممکنہ انتخابی امیدوارگی کو مقامی سیاست میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا۔

دوسری جانب فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم حملہ آوروں کی شناخت اور محرکات سے متعلق حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ خطے میں سیاسی تشدد اور عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ عثمان ہادی کی ناگہانی موت نے نہ صرف انقلاب منچو بلکہ مجموعی سیاسی منظرنامے میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے، جس کے اثرات آئندہ انتخابی سیاست پر بھی مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔