تازہ ترین
ہائی کمیشنِ سری لنکا، اسلام آباد میں سری لنکا کی آزادی کی 78ویں سالگرہ باوقار انداز میں منائی گئی February 6, 2026 وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026

ڈھاکہ میں انقلابی نوجوان شہید عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ، قومی قیادت اور لاکھوں افراد کی شرکت

ڈھاکہ۔ 20 دسمبر۔ انقلابی نوجوان شہید عثمان ہادی کی نماز جنازہ میں امیر جماعت بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن، وزیر اعظم بنگلہ دیش ڈاکٹر محمد یونس، قومی قیادت اور لاکھوں نوجوانوں کی شرکت۔۔

ڈھاکہ (20 دسمبر): انقلابی نوجوان رہنما اور شہید عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ ڈھاکہ میں ادا کر دی گئی، جس میں بنگلہ دیش کی اعلیٰ سیاسی و قومی قیادت، سماجی رہنماؤں اور لاکھوں نوجوانوں نے شرکت کی۔ جنازے کا منظر عوامی جذبات، سیاسی شعور اور قومی یکجہتی کی بھرپور عکاسی کرتا رہا۔

نمازِ جنازہ میں امیر جماعت بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن، وزیر اعظم بنگلہ دیش ڈاکٹر محمد یونس سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، منتخب نمائندگان، سول سوسائٹی کے اراکین اور انسانی حقوق کے کارکن شریک ہوئے۔ شرکاء نے شہید عثمان ہادی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی جدوجہد، جرات اور عوامی وابستگی کو سراہا۔

عثمان ہادی کو انقلابی نوجوان تحریک میں ایک مؤثر آواز سمجھا جاتا تھا۔ ان کی ناگہانی شہادت نے ملک بھر میں شدید رنج و غم کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ نوجوان طبقے میں ان کے نظریات اور جدوجہد کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

جنازے کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے رضاکاروں نے اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں شہید عثمان ہادی کی میت کو آبائی قبرستان روانہ کیا گیا، جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیے جانے کا امکان ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق عثمان ہادی کی شہادت نہ صرف بنگلہ دیش کی نوجوان سیاست کے لیے ایک بڑا نقصان ہے بلکہ یہ واقعہ آئندہ سیاسی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔