تازہ ترین
ہائی کمیشنِ سری لنکا، اسلام آباد میں سری لنکا کی آزادی کی 78ویں سالگرہ باوقار انداز میں منائی گئی February 6, 2026 وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026

عالمی بینک کی پاکستان کے لیے کثیر سالہ پروگرام کے تحت 70 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری

عالمی بینک نے پاکستان کے لیے کثیر سالہ پروگرام کے تحت 70 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دی ہے. اس کا مقصد ملک میں معاشی استحکام اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔

عالمی ادارے کے مطابق یہ رقم پبلک ریسورسز فار اِنکلیوسِو ڈیولپمنٹ — ملٹی فیز پروگرامٹک اپروچ (PRID-MPA) کے تحت فراہم کی جائے گی، جس کے ذریعے مجموعی طور پر 1.35 ارب ڈالر تک کی فنانسنگ ممکن ہو سکتی ہے۔

منظور شدہ رقم میں سے 60 کروڑ ڈالر وفاقی پروگراموں کے لیے جبکہ 10 کروڑ ڈالر سندھ میں ایک صوبائی پروگرام کی معاونت کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

عالمی بینک کی جانب سے جاری ایک بیان میں پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے کہا ہے کہ پاکستان میں جامع اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے ملکی وسائل کو بہتر انداز میں متحرک کرنا اور انہیں مؤثر اور شفاف طریقے سے استعمال کرنا ناگزیر ہے تاکہ عوام کو حقیقی فوائد پہنچ سکیں۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ملٹی فیز پروگرامٹک اپروچ کے تحت عالمی بینک وفاقی حکومت اور حکومتِ سندھ کے ساتھ مل کر ایسے عملی نتائج کے حصول پر کام کر رہا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ان میں سکولوں اور صحت کے مراکز کے لیے زیادہ قابلِ اعتماد فنڈنگ، منصفانہ ٹیکس نظام اور فیصلہ سازی کے لیے مضبوط ڈیٹا شامل ہے، جبکہ سماجی اور ماحولیاتی ترجیحی سرمایہ کاری کے تحفظ اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔