
لاہور/اسلام آباد (21 دسمبر):
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 140-اے کے تحت سیاسی، مالی اور انتظامی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے مطالبے پر جماعت اسلامی پاکستان کی اپیل پر آج پنجاب سمیت ملک بھر میں ڈویژنل ہیڈکوارٹرز پر احتجاجی دھرنے دیے جا رہے ہیں۔ یہ احتجاج امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی قیادت اور ہدایت پر منظم کیے گئے ہیں۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آئین واضح طور پر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ صوبائی حکومتیں بااختیار بلدیاتی نظام قائم کریں، مگر بدقسمتی سے صوبائی حکومتیں طویل عرصے سے بلدیاتی انتخابات سے گریز اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل جمہوری اقدار کے منافی اور آئینی تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
احتجاجی دھرنوں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ نچلی سطح پر عوام کو اختیارات دینے کے بجائے بلدیاتی نظام پر صوبائی حکومتوں کا قبضہ ناقابلِ قبول ہے۔ خاص طور پر پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “کالا قانون” قرار دیا گیا، جس کے ذریعے اختیارات منتخب نمائندوں کے بجائے بیوروکریسی کے پاس رکھے گئے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے اپنے پیغام میں کہا کہ جماعت اسلامی پرامن اور عوامی جدوجہد کے ذریعے ملک میں حقیقی، بااختیار اور آئین کے مطابق بلدیاتی نظام کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط بلدیاتی نظام کے بغیر عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں، اور جمہوریت اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اختیارات عوام کی دہلیز تک منتقل نہ ہوں۔
جماعت اسلامی کے مطابق یہ دھرنے عوامی شعور بیدار کرنے اور حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کا حصہ ہیں، تاکہ فوری طور پر شفاف اور بااختیار بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ تمام صوبوں میں آئین کے مطابق بلدیاتی اداروں کو مکمل خودمختاری دی جائے اور مقامی سطح پر ترقیاتی و انتظامی فیصلوں کا اختیار منتخب نمائندوں کے پاس ہو۔
احتجاجی دھرنوں کے دوران سیکیورٹی کے مناسب انتظامات کیے گئے، جبکہ کارکنان نے بینرز اور پلے کارڈز کے ذریعے آئینی بالادستی اور عوامی حقوق کے حق میں نعرے بلند کیے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ملک گیر احتجاج بلدیاتی نظام کے مسئلے کو ایک بار پھر قومی سطح پر اجاگر کر رہا ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں حکومتی پالیسیوں اور سیاسی مباحث پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔






