تحریر: پروفیسر سید مُلازم حسین بخاری
گزشتہ جمعہ اور ہفتہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں ایلومینائی ری یونین کی تقریبات منعقد ہوئیں۔ جسمیں یو ایس اے اور یو کے سے وہ ایکسپرٹس تشریف لائے جو اس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کنگ کے بعد مختلف شعبوں میں آجکل ایکسپرٹس مانے جاتے ہیں اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے باعث میں بنفسِ نفیس تو شریک نہ ہو سکا، لیکن وائس چانسلر پروفیسر محمود ایاز کی تقریر سننے کا موقع ملا۔ یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کہ ان کی قیادت میں ادارے نے پانچ ایسے سنگ میل عبور کیے ہیں جو کسی بھی عالمی درجے کی یونیورسٹی کا خاصہ ہوتے ہیں۔ یہ کامیابیاں بلاشبہ پروفیسر محمود ایاز اور ان کی اس قابلِ فخر ٹیم کی مرہونِ منت ہیں جو اس الما میٹر کا اصل سرمایہ ہیں۔
ان میں چند نمایاں کام یہ ہیں:
* اینلز آف کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی: اس جریدے کو Impact Factor جرنل بنانا ایک عظیم کارنامہ ہے، جس کا سہرا پروفیسر سائرہ افضل کے سر جاتا ہے اور اب پروفیسر نازش عمران اسے نہایت کامیابی سے آگے بڑھا رہی ہیں۔ * مصنوعی ذہانت (AI) کا سکول: جدید دور کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے AI سکول کی ابتدا کرنا ایک دور اندیش فیصلہ ہے۔ اس کا کریڈٹ بھی پروفیسر سائرہ افضل کو جاتا ہے اور اب پروفیسر عذیر قریشی اس مشن کو لیڈ کر رہے ہیں۔ * بائیوبنکنگ کا قیام: کینسر ریسرچ کے لیے بائیوبنکنگ کا قیام ایک انقلابی قدم ہے جسے پروفیسر سید سجاد شاہ اور پروفیسر فائزہ بشیر چلا رہی ہیں۔ یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ موصوف نے اس خواب کی بنیاد 2011 میں رکھی گئی تھی جب الٹرا لو فریزرز (-80سنٹی گریڈ) اور ایڈوانس لیب قائم کی گئی تھی، جو بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر فعال نہ ہو سکی۔ پروفیسر محمود ایاز مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس منصوبے کو پائہ تکمیل تک پہنچایا۔ یقیناً ان تمام ہیروز کا صلہ اللہ کے پاس ہے جنہوں نے پسِ منظر میں رہ کر اس کے لیے کام کیا۔
کینسر ویکسین (mRNA) کی تیاری: ایک وژن
بائیو بنک بنانے کا اصل مقصد کینسر کے خلاف ایم آر این اے mRNA ویکسین کی تیاری ہے۔ یہ ایک انتہائی جدید اور پیچیدہ عمل ہے جسے “Personalized Immunotherapy” کہا جاتا ہے۔ پروفیسر محمود ایاز کا یہ وژن لائقِ تحسین ہے۔ اس عظیم مشن کی حساسیت کے پیشِ نظر، موجودہ ٹیم کی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشنے کے لیے ہمیں پیتھالوجی اور مالیکیولر سائنسز میں ایسے مزید ماہرین اور محققین کو ساتھ شامل کرنے کی ضرورت ہے جو عالمی سطح کے ہنر اور گہری علمی بصیرت کے حامل ہوں۔ ہمیں ایسے لیڈرز اور زرخیز دماغوں کی ضرورت ہے جو سائنسی تحقیق میں “ایلیٹ سوچ” رکھتے ہوں۔ لاہور میں خوش قسمتی سے ہمارے پاس پروفیسر خالد مسعود گوندل، پروفیسر چغتائی، پروفیسر محمود ایاز، پروفیسر ہارون حمید، پروفیسر بلقیس شبیر، پروفیسر سائرہ افضل، پروفیسر شہزاد انور، پروفیسر فاروق افضل، پروفیسر جاوید اکرم، پروفیسر شمسہ ہمایوں، پروفیسر عائشہ ہمایوں، پروفیسر عذیر قریشی، پروفیسر ظفر علی چوہدری، پروفیسر ضیاالحق اور پروفیسر مہوش عروج جیسی قد آور شخصیات موجود ہیں (اور یقیناً کئی ایسے نام بھی ہوں گے جو میری نظر سے اوجھل ہیں)۔
عملی اقدامات اور تکنیکی ڈھانچہ
اگر ہمارے پاس شعبہ پیتھالوجی، انکالوجی، مالیکیولر پیتھالوجی اور بائیوٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ISO 20387 سرٹیفائیڈ BSL-2 یا BSL-3 لیبارٹری موجود ہے، تو ہمارے پاس بنیاد موجود ہے۔ اسکے بعد
Molecular Analysis of Common Human Cancers in Pakistan: Bridging the Gap Between Therapeutics, Prognosis, and Vaccine Development” کی جا سکتی ہے
ایم آر این اے mRNA ویکسین کے لیے صرف نمونے جمع کرنا کافی نہیں، بلکہ بائیو بینک کو نمونوں کی حیاتیاتی سالمیت (Biological Integrity) برقرار رکھنی ہوتی ہے۔
اس کے لیے درج ذیل مراحل اور کثیر الشعبہ ٹیم (Multidisciplinary Team) ناگزیر ہے:
* سیکوینسنگ (NGS): کینسر ٹشو اور نارمل سیلز کے DNA/RNA کا موازنہ۔
* بایو انفارمیٹکس تجزیہ: کمپیوٹر الگورتھم کے ذریعے مخصوص ‘Neoantigens’ کی تلاش۔
* ایم آر این اے (mRNA) ڈیزائن: ان وٹرو ٹرانسکرپشن (IVT) کے ذریعے جینیاتی کوڈ کی تیاری۔
* لپڈ نینو پارٹیکل (LNP): ویکسین کو محفوظ طریقے سے جسم میں پہنچانے کے لیے نینو ٹیکنالوجی کا استعمال۔
اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے ہمیں مالیکیولر بائیولوجسٹ، بائیو انفارمیٹیشنز، جینومک ماہرین اور ایمونولوجسٹ پر مشتمل ایک مربوط ٹیم درکار ہوگی جو جی ایم پی (GMP) معیارات کے مطابق کام کر سکے۔
مجھے قوی امید ہے کہ پروفیسر محمود ایاز کی قیادت میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کینسر ویکسین کی تیاری میں پاکستان کی قیادت کرے گی۔
ایک خیر خواہ ایلومینائی ہونے کے ناطے میری یہ تجاویز صرف اس مقصد کے لیے ہیں کہ ہمارا ادارہ عالمی ریسرچ کے نقشے پر جگمگا سکے۔






