
متحدہ عرب امارات اس وقت غیر مستحکم موسمی صورتحال کے عروج سے گزر رہا ہے۔ نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی (NCM) کے مطابق جمعہ کے روز ملک بھر میں جاری بارشوں، تیز ہواؤں اور طوفانی کیفیت کی شدت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے، جبکہ یہ موسمی نظام گزشتہ ہفتے سے مسلسل اثر انداز ہو رہا ہے۔
این سی ایم کا کہنا ہے کہ موجودہ موسم بحیرۂ احمر سے پھیلنے والے سطحی کم دباؤ کے نظام کے باعث تشکیل پایا ہے، جس کے ساتھ نم جنوب مشرقی ہوائیں چل رہی ہیں۔ اس کے علاوہ فضا کی بالائی سطح پر موجود کم دباؤ کا نظام کبھی مضبوط اور کبھی کمزور ہو رہا ہے، جبکہ شمال مغربی ہواؤں کے امتزاج نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ دو دنوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں موسم غیر یقینی رہا۔ آسمان جزوی طور پر ابر آلود سے مکمل طور پر ابر آلود رہا، جبکہ سرد ہواؤں کے ایک نئے سلسلے نے خطے کو متاثر کیا۔ اس کے نتیجے میں گہرے بادلوں کی تشکیل ہوئی، خاص طور پر بعض علاقوں میں کنویکٹو بادل بنے، جن سے وقفے وقفے سے ہلکی اور بعض مقامات پر تیز بارش ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق کئی علاقوں میں گرج چمک، بجلی کڑکنے اور ژالہ باری کے واقعات بھی پیش آئے، جس سے معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔ تیز ہواؤں کے باعث حدِ نگاہ میں کمی اور بعض مقامات پر سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
این سی ایم نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ موسمی الرٹس پر نظر رکھیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور بارش یا تیز ہواؤں کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ حکام کے مطابق آنے والے گھنٹوں میں بھی بعض علاقوں میں بارش اور طوفانی کیفیت برقرار رہنے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی ماہرینِ موسمیات کے مطابق خطے میں اس نوعیت کی موسمی سرگرمیاں موسمِ سرما کے دوران غیر معمولی تو نہیں، تاہم ان کی شدت کے باعث شہریوں اور مسافروں کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔






