
امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک تجزیاتی آرٹیکل کے مطابق رواں برس مارچ میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قومی خطاب کے دوران پاکستان کی غیر متوقع تعریف نے واشنگٹن میں پالیسی حلقوں کو چونکا دیا اور امریکا کی پاکستان سے متعلق سوچ میں واضح تبدیلی کی بنیاد رکھ دی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی اس غیر معمولی تعریف کے بعد پاکستان نے سفارتی سطح پر موقع کو فوری طور پر مؤثر انداز میں استعمال کیا۔ ہر محدود تعاون رفتہ رفتہ غیر متوقع سفارتی کریڈٹ میں تبدیل ہوتا گیا، دوطرفہ انگیجمنٹ میں اضافہ ہوا اور پاک امریکا تعلقات محض ٹرانزیکشنل نوعیت سے نکل کر اسٹریٹجک شراکت داری کی سمت بڑھنے لگے۔
واشنگٹن ٹائمز کے مطابق پاک امریکا تعلقات میں فیصلہ کن موڑ مئی میں اُس وقت آیا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک مختصر مگر شدید نوعیت کی فوجی جھڑپ ہوئی۔ آرٹیکل کے مطابق اس جھڑپ کے دوران پاکستان کی عسکری کارکردگی، نظم و ضبط اور حکمتِ عملی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو حیران کر دیا۔
اخبار لکھتا ہے کہ مئی کی لڑائی میں پاکستانی افواج نے جس سطح کا ڈسپلن، اسٹریٹجک فوکس اور ایسِمٹرک کیپیبلٹی (Asymmetric Capability) کا مظاہرہ کیا، وہ امریکی توقعات سے کہیں زیادہ تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب واشنگٹن میں پاکستان کو ایک بار پھر سنجیدگی سے ریجنل اسٹیبلٹی کے اہم کھلاڑی کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
آرٹیکل کے مطابق اس پیش رفت کے بعد امریکی پالیسی ساز حلقوں میں پاکستان کے کردار، صلاحیت اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ پر نئی بحث نے جنم لیا، جس کے نتیجے میں دوطرفہ تعلقات میں ایک نیا اسٹریٹجک زاویہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔
مبصرین کے مطابق واشنگٹن ٹائمز کی یہ رپورٹ اس امر کی عکاس ہے کہ پاکستان نہ صرف خطے میں اپنی عسکری اور سفارتی اہمیت دوبارہ منوانے میں کامیاب ہوا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو ایک نئے توازن میں ڈھالنے کی پوزیشن میں بھی آ چکا ہے۔






