
کھاریاں اس وقت ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ شہر کے مختلف حلقوں میں الیکشن کا موسم پوری آب و تاب سے جاری ہے۔ تاجر برادری کے انتخابات ہوں، کھاریاں بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخاب اپنے اختتامی مرحلے میں ہوں یا کھاریاں پریس کلب کے انتخابات کے شیڈول کا اعلان—ہر طرف سرگرمی، جوش اور قیادت حاصل کرنے کی جدوجہد دکھائی دیتی ہے۔ شہر میں سیاسی و سماجی گہماگہمی ہے، لوگ اپنی اپنی فیلڈ میں نمائندگی اور اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے متحرک ہیں۔
قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان بھی اپنی کامیابیوں کے ثمرات سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور وقتاً فوقتاً کھاریاں کا دورہ بھی کر لیتے ہیں۔ مگر اس تمام چمک دمک اور انتخابی رونق کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہے—کھاریاں شہر کے بنیادی مسائل، جو برسوں سے جوں کے توں چلے آ رہے ہیں۔
شہر کی سروس روڈز کئی دہائیوں سے ادھوری ہیں۔ جو کہیں کہیں بن چکی ہیں، وہاں وکلاء، تاجر اور ٹرانسپورٹرز کی پارکنگ نے عوام کے لیے راستے تنگ کر دیے ہیں۔ ٹریفک کا حال یہ ہے کہ ڈنگہ روڈ اور جی ٹی روڈ پر دن رات جام رہنا معمول بن چکا ہے، مگر ٹریفک پولیس کا وجود شاذ و نادر ہی دکھائی دیتا ہے۔ جرمانے البتہ عام مزدور، موٹر سائیکل سوار اور کمزور طبقے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔
صاف ستھرا پنجاب کے نام پر جی ٹی روڈ کے اطراف صفائی دکھا کر شہر کے اندرونی علاقوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ گندگی، ٹوٹے فٹ پاتھ اور بدترین شہری نظم و نسق کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ انتظامیہ کی توجہ زیادہ تر اشتہارات اور ٹیکس وصولی پر مرکوز رہتی ہے—جائز ہو یا ناجائز—جبکہ ایک عام دکاندار مسلسل دباؤ میں جیتا ہے۔
بجلی اور گیس کی صورتحال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور سردیوں میں گیس کی بندش نے شہریوں اور کاروباری طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ گرڈ اسٹیشن یا لائنز کی مرمت کے نام پر پورا پورا دن بجلی غائب رہتی ہے اور کاروبار ٹھپ ہو جاتا ہے، مگر جواب دہی کہیں نظر نہیں آتی۔
صحت کے شعبے کا حال اس سے مختلف نہیں۔ سول ہسپتال میں مریضوں کی قطاریں اور دواؤں کی کمی ایک مستقل منظر ہے۔ سنگین بیماریوں میں مبتلا افراد کو مجبوری کے تحت مہنگے نجی ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں علاج عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔
یہ وہ مسائل ہیں جن سے کھاریاں کا عام شہری روزانہ دوچار ہے۔ اس کے باوجود شہر میں الیکشن الیکشن کی گہماگہمی ایک خوش نما منظر پیش کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ الیکشن محض عہدوں کی دوڑ تک محدود رہیں گے یا واقعی اس شہر کے دیرینہ مسائل کے حل کا ذریعہ بن سکیں گے؟
کھاریاں کو نمائندوں سے نعروں نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر یہ انتخابی موسم عوامی مسائل کی سنجیدہ آواز بن جائے تو شاید یہ گہماگہمی واقعی سوہانی محسوس ہونے لگے۔ ورنہ خطرہ یہ ہے کہ الیکشن ختم ہوں گے، عہدے تقسیم ہو جائیں گے اور کھاریاں کے مسائل ایک بار پھر فائلوں اور وعدوں کی نذر ہو جائیں گے۔






