
بنگلہ دیش میں حالیہ پرتشدد مظاہروں کے دوران ایک ہندو شہری کی ہلاکت کے بعد بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید خراب ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر تعلقات کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں اور سفارتی سطح پر احتجاج بھی ریکارڈ کرایا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ ہندو شہری ڈیپو چندرا کو ایک مشتعل ہجوم نے توہینِ مذہب کے الزام کے بعد ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کے بعد انڈیا میں ہندو انتہا پسند گروہوں کی جانب سے شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب دارالحکومت ڈھاکہ میں طالبعلم رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد پُرتشدد مظاہرے جاری تھے۔ عثمان ہادی کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے قتل میں مرکزی ملزم کا تعلق سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ سے ہے، اور یہ بھی الزام لگایا گیا کہ ملزم واردات کے بعد انڈیا فرار ہو گیا۔
تاہم بنگلہ دیشی پولیس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں کہ مشتبہ شخص ملک چھوڑ چکا ہے۔ اس کے باوجود ان دعوؤں کے باعث بنگلہ دیش میں انڈیا مخالف جذبات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے کئی شہروں میں ویزا سروسز عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ انڈیا اور بنگلہ دیش، دونوں کا کہنا ہے کہ ان کے سفارتی مشنز کو مناسب سکیورٹی فراہم نہیں کی جا رہی۔
اسی تناظر میں حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفارتی نمائندوں کو طلب کر کے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔
ڈھاکہ میں تعینات انڈیا کے سابق ہائی کمشنر ریوا گنگولی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ حالات مزید خراب نہیں ہوں گے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عدم استحکام کے باعث یہ کہنا مشکل ہے کہ صورتحال کس سمت جا رہی ہے۔






