
خبر (پاسبان نیوز): بیجنگ: چین نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے امریکی دفاعی کمپنی بوئنگ سمیت امریکہ کی 10 اہم شخصیات اور 20 کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ پابندیاں چین کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی قوانین خصوصاً “ون چائنا پالیسی” کی خلاف ورزی کے ردِعمل میں لگائی گئی ہیں۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیاں اور افراد آئندہ چین میں کسی قسم کی کاروباری سرگرمی انجام نہیں دے سکیں گے، جبکہ چین میں موجود ان کے تمام اثاثے ضبط کر لیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ان اداروں اور شخصیات کے چین کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے تجارتی، سرمایہ کاری یا تکنیکی تعاون پر مکمل پابندی ہو گی۔
چین نے واضح کیا ہے کہ تائیوان اس کا اٹوٹ انگ ہے اور کسی بھی ملک کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ امریکہ کی یہ پالیسیاں خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں اور امن و استحکام کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق چین کے اس اقدام سے چین۔امریکہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا امکان ہے، جبکہ عالمی سطح پر دفاعی تجارت، سفارتی تعلقات اور اسٹریٹجک توازن پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ چین نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کا احترام کرے اور خطے کو کسی نئی کشیدگی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرے۔






