
خبر (پاسبان نیوز – عالمی): نیویارک کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور تاریخی سنگِ میل اس وقت عبور ہوا جب ظہران ممدانی نے شہر کے 111ویں میئر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ وہ نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ہیں، جنہوں نے حلف برداری کی تقریب میں قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا، جو بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا۔
حلف برداری کی پروقار تقریب میں شہر کی سیاسی، سماجی اور مختلف کمیونٹیز کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر ظہران ممدانی نے کہا کہ
“میئر نیویارک کا حلف اٹھانا میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے، میں اس ذمہ داری کو امانت سمجھ کر نبھاؤں گا اور شہر کے تمام شہریوں کے لیے بلا تفریق کام کروں گا۔”
ظہران ممدانی کی کامیابی کو نہ صرف امریکی مسلم کمیونٹی بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت نیویارک جیسے عالمی شہر میں تنوع، شمولیت اور مذہبی ہم آہنگی کی مضبوط علامت ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ظہران ممدانی کی قیادت نیویارک کی شہری سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، جہاں اقلیتوں کی نمائندگی اور بین المذاہب ہم آہنگی کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
عالمی سطح پر مختلف ممالک کے رہنماؤں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مسلم دنیا کی نمایاں شخصیات نے ظہران ممدانی کو اس تاریخی کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ نیویارک کو ترقی، انصاف اور مساوات کی راہ پر مزید آگے لے جائیں گے۔






