تازہ ترین
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026 تحریک انصاف کو عمران خان کی ’بینائی متاثر ہونے کا خدشہ‘سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟ January 27, 2026

مین ہول سے چار لاشیں ملنے کے د واقعے کا مقدمہ درج

کراچی کے علاقے مائی کلاچی روڈ پر مین ہول سے چار لاشیں ملنے کے دل دہلا دینے والے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ سول اسپتال کراچی میں چاروں لاشوں کا ابتدائی پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد انہیں سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق لاشیں کئی روز پرانی ہیں اور شدید مسخ ہونے کے باعث تاحال ان کی شناخت نہیں ہو سکی، فنگر پرنٹس بھی خراب ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے نادرا کے ڈیٹا بیس سے میچ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولین میں 14 سالہ لڑکا، 10 سالہ لڑکا، 15 سالہ لڑکی اور 35 سے 40 سال کی ایک خاتون شامل ہیں۔

14 سالہ لڑکے کے سر، چہرے اور گردن پر تشدد کے نشانات پائے گئے، 10 سالہ لڑکے کی لاش گلا کٹی ہوئی حالت میں ملی، 15 سالہ لڑکی کے سر، چہرے اور گردن پر تشدد کے آثار موجود ہیں، جبکہ خاتون کے سر پر شدید تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔

تمام مقتولین کو تیز دھار آلے سے قتل کیے جانے کا شبہ ہے، کیمیائی تجزیے کے لیے لاشوں سے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق مقتولین کے کپڑوں اور ظاہری خدوخال سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ کراچی کے رہائشی نہیں تھے۔

شناخت کے لیے ڈی این اے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں جنہیں بعد میں کراس میچ کیا جائے گا، اس کے علاوہ مقتولین کی شناخت کے لیے اشتہارات اور خاکے جاری کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اگر تین روز کے اندر مقتولین کی شناخت نہ ہو سکی تو ضابطے کے مطابق لاشوں کی تدفین کر دی جائے گی۔