
پاسبان نیوز: اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے بار بار التواء کے خلاف جماعتِ اسلامی کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین نے حکومت کی اس پالیسی پر کڑی تنقید کی جس کے تحت بلدیاتی انتخابات کو چوتھی بار ملتوی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ احتجاج # کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی اسلام آباد انجینئر نصراللّٰہ رندھاوا نے کہا کہ بلدیاتی ادارے جمہوریت کی بنیاد ہیں اور انہیں کمزور کرنا عوام کے حقِ حکمرانی پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے سے گریزاں ہے، جو آئین اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
جنرل سیکرٹری جماعتِ اسلامی اسلام آباد زبیر صفدر نے خطاب میں بتایا کہ حکومتی رکاوٹوں کے باوجود اسلام آباد میں جماعتِ اسلامی کا ایک یوسی چیئرمین اور 13 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام جماعتِ اسلامی کی قیادت پر اعتماد کر رہے ہیں۔
نائب امیر جماعتِ اسلامی اسلام آباد محمد کاشف چوہدری نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں تاخیر دراصل عوامی مسائل کو پسِ پشت ڈالنے کی کوشش ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی عوام کو ان کا آئینی حق دلانے کے لیے ہر فورم پر جدوجہد جاری رکھے گی۔
مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی انتخابات میں مزید تاخیر نہ کی جائے، فوری طور پر انتخابی شیڈول جاری کیا جائے اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کو مکمل اختیارات منتقل کیے جائیں۔ احتجاج کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک بلدیاتی نظام بحال نہیں ہوتا، جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔






