اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے پیر کے روز وینزویلا میں پیدا کردہ تازہ صورت حال پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ امریکی فوجی کارروائی کے بعد وینزویلا میں عدم استحکام بڑھ جائے گا۔
امریکہ کی فوجی کارروائی میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت امریکی فوجی اٹھا کر امریکہ لے گئے ہیں۔ امریکی فوج نے یہ کارروائی صدر ٹرمپ کی خصوصی ہدایت پر ہفتے کی صبح ہونے سے پہلے مکمل کی۔
نیو یارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے تھوڑی دیر پہلے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سلیا فلورس کو امریکہ کے ایک وفاقی جج کی عدالت کے روبرو مین ہٹن میں پیش کیا گیا۔
امریکہ نے وینزویلا کے ایوان صدر سے اٹھائے گئے ان ہائی پروفائل میاں بیوی پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ دونوں منشیات کی سمگلنگ اور اغوا کے مقدمات میں ملوث رہے ہیں۔ تاہم وینزویلا کے مغوی صدر اور ان کی اہلیہ نے ان الزمات کی تردید کی ہے۔
اس صورت حال پر سیکرٹری جنرل نے کہا ‘ میں اس وجہ سے پیدا ہونے والی ممکنہ کشیدگی اور بے چینی کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہوں۔ اس واقعے کا مکانی اثر پورے علاقے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک مثال دوسرے ملکوں کے لیے بھی بن سکتی ہے۔’ ان کا یہ بیان سلامتی کونسل کے ارکان کو پیر کے روز پہنچایا گیا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وینزویلا کے سیاسی رہنماؤں کو اس معاملے بلایا جائے اور ان کے درمیان مکالمے کا امکان پیدا کیا جائے۔ گوتریس نے مزید کہا وینزویلا میں کسی بھی پر امن کوشش کے ذریعے مسئلے کے حل کی طرف بڑھنے کا میں خیر مقدم کروں گا اور پوری حمایت و مدد کروں گا۔
سیکرٹری جنرل گوتریس نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ وینزویلا میں کی گئی کارروائی بین الاقوامی قانون کے ہرگز احترام میں نہیں تھی۔ جس کے ذریعے ہفتے کی رات صدر مادورو کو پکڑ کر لایا گیا۔
اس امریکی کارروائی کے سلسلے میں کولمبیا نے سلامتی کونسل سے درخواست کی ہے کہ وینزویلا کی خود مختاری اور سیاسی آزادی کے واضح طور پر خلاف کیے گئے امریکی آپریشن کا جائزہ لیا جائے۔ پیر کو کولمبیا کی اسی درخواست پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا گیا ہے۔
کولمبیا کے اقوام متحدہ کے لیے سفیر لیونور زالا نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا اس امریکی کاروائی کا کسی بھی طرح کوئی جواز نہیں ہے۔ خواہ حالات کچھ بھی ہوں یکطرفہ طور پر فوج کا یہ استعمال جارحیت ہے۔ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اقوم متحدہ کے چارٹر کے بھی خلاف ہیں۔
خیال رہے قانونی ماہرین نے بھی امریکہ کی اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ کیونکہ اس کارروائی کو سلامتی کونسل کی تائید حاصل نہیں تھی۔
تاہم کسی بھی خلاف ورزی پر امریکہ کو جواب دہ نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ وہ اور اس کے اپنے اتحادی ویٹو کا الگ الگ اختیار رکھتے ہیں ۔جس قرارداد کو چاہیں سلامتی کونسل میں ویٹو کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اقوام متحدہ کے قیام میں یہ بنیادی نکتہ شامل ہے کہ اس کے ارکان رکن ممالک کی خود مختاری اور سلامتی کا خیال رکھیں گے اور اسے متاثر نہیں کریں گے۔






