تازہ ترین
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026 تحریک انصاف کو عمران خان کی ’بینائی متاثر ہونے کا خدشہ‘سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟ January 27, 2026

امریکی تکبر اور نوآبادیاتی ذہنیت اب قابلِ قبول نہیں، چین کا دوٹوک مؤقف

پاسبان نیوز | عالمی امور امریکی تکبر اور نوآبادیاتی ذہنیت اب قابلِ قبول نہیں، چین کا دوٹوک مؤقف

چین نے عالمی سطح پر امریکا کے رویّے پر سخت تنقید کرتے ہوئے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکی تکبر اور غرور کا خاتمہ ہونا چاہیے اور نوآبادیاتی ذہنیت کو مکمل طور پر اکھاڑ پھینکنا وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔

چینی حکام کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرنے، بالادستی کے دعووں اور یکطرفہ اقدامات کی پالیسی مہذب دنیا کے لیے اب قابلِ قبول نہیں رہی۔ چین کا کہنا ہے کہ عالمی نظام کو باہمی احترام، خودمختاری کے اصول اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے، نہ کہ طاقت اور دباؤ کی سیاست پر۔

چین نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ممالک برابری کی سطح پر تعاون چاہتے ہیں، جبکہ سرد جنگ کی سوچ اور نوآبادیاتی طرزِ فکر عالمی امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ چینی مؤقف کے مطابق عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ یکطرفہ بالادستی کے رجحانات کی حوصلہ شکنی کرے اور کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنائے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق چین کا یہ بیان عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور عالمی نظام کی تشکیلِ نو کے تناظر میں نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے، جو آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سفارتی صف بندی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔