تازہ ترین
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026 تحریک انصاف کو عمران خان کی ’بینائی متاثر ہونے کا خدشہ‘سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟ January 27, 2026

حیدرآباد اور سیالکوٹ پی ایس ایل کی نئی ٹیمیں امریکی اور آسٹریلوی سرمایہ کاروں کی 175 اور 185 کروڑ کی کامیاب بولیاں

پاسبان نیوز: اسلام آباد میں منعقد ہونے والی پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی دو نئی ٹیموں کی نیلامی کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور یہ ٹیمیں بالترتیب 175 کروڑ اور 185 کروڑ روپے میں فروخت کر دی گئی ہیں۔

پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم ایف کے ایس گروپ نے ایک ارب 75 کروڑ روپے کی کامیاب بولی دے کر خریدی۔ امریکہ میں کرکٹ کی مختلف ٹیموں کے مالک اس سرمایہ کار گروپ نے ٹیم کے نام کے لیے حیدرآباد شہر کا انتخاب کیا۔

پہلے راؤنڈ میں ریزرو پرائس یا کم از کم قیمت ایک ارب دس کروڑ روپے رکھی گئی تھی۔ بولی کا آغاز انویریکس نے 111 کروڑ روپے سے کیا لیکن دیگر کمپنیوں نے بولی کی رقم بڑھا کر 125 کروڑ روپے تک پہنچا دی۔

اس کے بعد صرف دو کمپنیاں آئی ٹو سی اور ایف کے ایس ہی میدان میں رہ گئیں۔ آئی ٹو سی نے 142 کروڑ روپے کی بولی لگائی تو ایف کے ایس کے بولی بڑھانے سے بات 155 کروڑ تک جا پہنچی۔

یہاں پرزم گروپ نے پانچ منٹ کا وقفہ مانگا تو ایسا لگنے لگا کہ اب یہ کمپنی بھی بھاری رقم کی بولی لگائے گی۔ پانچ منٹ کا وقفہ ختم ہوا تو بھی پرزم نے کوئی بولی نہ لگائی۔ اس دوران آئی ٹو سی بولی بڑھاتے بڑھاتے 170 کروڑ پر لے گئی لیکن جب ایف کے ایس نے 175 کروڑ کی بولی لگائی تو کسی بھی بولی دہندہ کے پاس اس کا جواب نہ تھا۔

ایف کے ایس گروپ کے نمائندے نے بولی کے بعد منتظمین کو بتایا کہ ’منصوبہ یہی تھا کہ خالی ہاتھ نہیں جانا۔‘

دوسری ٹیم کے لیے بولی کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا تو ابتدائی قیمت 170 کروڑ روپے رکھی گئی۔ اب میدان میں آٹھ کمپنیاں رہ گئی تھیں۔ ایم نیکسٹ انکارپوریٹڈ نے پہلی بولی 171 کروڑ روپے کی لگائی۔ رقم بڑھتے بڑھتے 173 کروڑ روپے تک پہنچی تو آئی ٹو سی نے پانچ منٹ کا وقفہ مانگ لیا۔ پانچ منٹ کے وقفے کے بعد ان کی بولی تھی 175 کروڑ روپے۔

اس کے بعد مزید بولیاں بھی آئیں اور 178 کروڑ روپے پر جا کر یہ معاملہ انجام تک پہنچتا محسوس ہوا۔ کوئی بھی بولی دہندہ اس سے اوپر جانے کے لیے تیار نظر نہ آتا تھا۔ اسکرین پر آخری 30 سیکنڈ والا ٹائمر بھی چلنا شروع ہو گیا تھا، لیکن آخری 24 ویں سیکنڈ پر آئی ٹو سی کی طرف سے بولی آئی 180 کروڑ روپے کی۔