پاسبان نیوز | پنجاب جماعتِ اسلامی کی جانب سے پنجاب حکومت کے مجوزہ بلدیاتی قانون کے خلاف عوامی ریفرنڈم کا باقاعدہ آغاز کل سے صوبہ بھر میں کیا جا رہا ہے، جو چار روز تک جاری رہے گا۔ اس ریفرنڈم کا مقصد پنجاب کے عوام سے براہِ راست رائے لینا ہے کہ آیا وہ موجودہ بلدیاتی قانون کو منظور کرتے ہیں یا اسے مسترد کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں 15 جنوری 2026 کو مختلف شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں ریفرنڈم کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں شہری اپنے ووٹ کے ذریعے پنجاب بلدیاتی قانون کو مسترد کرنے اور بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں رائے دیں گے۔
جماعتِ اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ کل کچہری چوک میں قائم ریفرنڈم کیمپ کا خصوصی دورہ کریں گے، جہاں وہ عوام سے خطاب بھی کریں گے۔ خطاب میں وہ پنجاب کے بلدیاتی قانون کو جمہوریت دشمن، عوام دشمن اور اختیارات پر قبضے کی کوشش قرار دیتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے مؤقف کی وضاحت کریں گے۔
جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کا بلدیاتی قانون عوام کو نچلی سطح پر اختیارات دینے کے بجائے بیوروکریسی کو مزید طاقتور بناتا ہے، جو جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ ان کے مطابق بااختیار بلدیاتی نظام کے بغیر عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں۔
ریفرنڈم مہم کے دوران جماعتِ اسلامی کے کارکنان شہریوں کو بلدیاتی نظام کی اہمیت، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور بلدیاتی اداروں کے مؤثر کردار سے آگاہ کریں گے۔ جماعتِ اسلامی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس عوامی ریفرنڈم میں بھرپور شرکت کر کے پنجاب بلدیاتی کالا قانون کو مسترد کریں اور حقیقی جمہوری نظام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
جماعتِ اسلامی قیادت کے مطابق عوامی ریفرنڈم کے نتائج کو باقاعدہ مرتب کر کے پنجاب اسمبلی اور متعلقہ فورمز پر پیش کیا جائے گا، تاکہ عوام کی رائے کو حکومتی ایوانوں تک پہنچایا جا سکے






