تازہ ترین
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026 تحریک انصاف کو عمران خان کی ’بینائی متاثر ہونے کا خدشہ‘سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟ January 27, 2026

پاکستان سے تعلقات اچھے تھے پھر بھی امریکہ نے پاکستانیوں پر بھی پابندی لگا دی

پاسبان نیوز عالمی : امریکہ نے پاکستان سمیت دنیا کے 75 ممالک کے شہریوں کی جانب سے دی گئی ویزے کی ایسی درخواستوں پر کارروائی غیر معینہ مدت تک کے لیے روکنے کا اعلان کیا ہے جن کی مدد سے وہ امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کر سکتے تھے۔

تاہم اس نئی پابندی کا اطلاق امریکہ کے سیاحتی، کاروباری اور تعلیمی ویزے پر نہیں ہو گا۔ یہ پابندی 21 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو گی اور ویزا پابندیوں کے حوالے سے حالیہ دنوں میں یہ امریکہ کا سب سے سخت اقدام ہے۔

پابندی کا سامنا کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے علاوہ جنوبی ایشیا سے بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔

اس فہرست میں وہ 19 ممالک بھی شامل ہیں جن کے تارکین وطن پر امریکہ میں پناہ حاصل کرنے، شہریت لینے اور گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے پر نومبر 2025 میں پابندی لگائی گئی تھی۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے قونصل افسران کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ امیگریشن کے خواہشمند افراد کی درخواستوں پر کارروائی روک دیں۔

تاہم امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ جن افراد کو امیگرینٹ ویزا جاری کیا جا چکا ہے اسے منسوخ نہیں کیا جا رہا۔ اور متاثرہ ممالک کے شہری امیگرنٹ ویزا کی نئی درخواستیں بھی جمع کروا سکتے ہیں اور انٹرویوز دے سکتے ہیں لیکن جب تک پابندی لاگو رہے گی اس وقت تک انھیں ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔

محکمۂ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ پابندی کا شکار ملک میں رہنے والا شخص اگر دوہری شہریت رکھتا ہے، اور جس دوسرے ملک کا پاسپورٹ اس کے پاس ہے وہ پابندی والے ممالک کی فہرست میں شامل نہیں، تو ایسے فرد پر یہ پابندی لاگو نہیں ہو گی۔

جن 75 ممالک پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں ایشیائی ممالک کے علاوہ مشرقِ وسطی، یورپ، افریقہ، کیریبیئن اور وسطی و جنوبی امریکہ کے ممالک بھی شامل ہیں۔

براعظم ایشیا اور پیسیفک سے جو ممالک پابندی کا شکار ہوئے ہیں ان میں پاکستان، افغانستان، آرمینیا، آذربائیجان، بنگلہ دیش، بھوٹان، کمبوڈیا، فیجی، جارجیا، قزاقستان، کرغزستان، لاؤس، منگولیا، میانمار، نیپال، تھائی لینڈ اور ازبکستان شامل ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں ایران، عراق، اردن، کویت، لبنان، شام اور یمن کے شہریوں کو پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ البانیہ، روس، بیلاروس، بوسنیا، کوسووو، مالدووا، مونٹی نیگرو اور مقدونیہ جیسے یورپی ممالک کے شہری بھی اس پابندی کی زد میں آئے ہیں۔