
پاسبان نیوز | گجرات پنجاب حکومت کے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے صوبہ بھر میں جاری عوامی ریفرنڈم کے سلسلے میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے گجرات کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر گجرات کے مرکزی مقام کچہری چوک میں قائم ریفرنڈم کیمپ پر ووٹنگ کا عمل جاری رہا، جہاں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے بلدیاتی قانون کو مسترد کرنے کے حق میں اپنی رائے دی۔
ریفرنڈم کیمپ پر امیر جماعت اسلامی شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم، جماعت اسلامی ضلع گجرات کے قائدین اور کارکنان بھی موجود تھے۔ لیاقت بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں نے خود ووٹنگ میں حصہ لیا اور عوامی ریفرنڈم کے عمل کو جمہوری جدوجہد کا عملی اظہار قرار دیا۔
اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ پنجاب کا موجودہ بلدیاتی قانون دراصل عوام سے اختیارات چھیننے کی کوشش ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے بغیر عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں اور نچلی سطح پر جمہوریت کو مضبوط کیے بغیر ملک میں حقیقی تبدیلی نہیں آ سکتی۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اس کالے قانون کے خلاف آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد جاری رکھے گی اور عوامی ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی اصل رائے حکمرانوں کے سامنے لائی جائے گی۔ لیاقت بلوچ نے عوام کی بھرپور شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریفرنڈم اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام بیوروکریسی کے تسلط اور جعلی جمہوریت کو مسترد کر چکے ہیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر طارق سلیم اور دیگر مقامی قائدین نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گجرات سمیت پنجاب بھر میں عوامی ریفرنڈم کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے، جو اس بات کا عندیہ ہے کہ عوام بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کے لیے متحد ہو چکے ہیں۔
ریفرنڈم کیمپ پر عوام کی آمد کا سلسلہ دن بھر جاری رہا، جہاں شہریوں نے جماعت اسلامی کی اس جدوجہد کو سراہتے ہوئے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ جماعت اسلامی قیادت کے مطابق عوامی ریفرنڈم کے نتائج کو مرتب کر کے متعلقہ آئینی و جمہوری فورمز پر پیش کیا جائے گا۔






