تازہ ترین
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026 تحریک انصاف کو عمران خان کی ’بینائی متاثر ہونے کا خدشہ‘سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟ January 27, 2026

پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے

انڈین وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے مالی سال 2027-2026 کا مرکزی بجٹ پیش کیا ہے اور اس میں وزارتِ دفاع کے بجٹ میں گذشتہ برس کے مقابلے 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو اب 85 ارب 40 کروڑ ڈالرز تک پہنچ چکا ہے۔

لوک سبھا میں پیش کیے جانے والے بجٹ میں آئندہ مالی سال میں مختلف وزارتوں کے لیے مختص رقم کا تعین کیا جاتا ہے۔

انڈین وزارتِ دفاع نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ آئندہ بجٹ میں اضافے کا مقصد دفاعی شعبے میں جدت لانا، نئی ٹیکنالوجی کا حصول اور وسائل کے بہتر استعمال کے لیے آسان خریداری پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

ہتھیاروں اور سازو سامان کی خرید و فروخت کے بجٹ میں 21 اعشاریہ 84 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

ڈیفینس سروسز میں روزمرہ کے آپریشنل اخراجات، ایندھن، مرمت اور تنخواہوں کی مد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب گذشتہ سال مئی میں انڈیا کا پاکستان کے ساتھ فوجی تنازع ہوا تھا۔

گذشتہ برس اپریل میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں مسلح عسکریت پسندوں کے ہاتھوں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد انڈیا نے پاکستان میں عسکریت پسندوں کے کیمپوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ انڈیا نے اسے ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا تھا۔

اس کے بعد انڈیا اور پاکستان کے مابین فوجی تصادم شروع ہو گیا تھا۔ انڈین فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی فوج کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) کی طرف سے جنگ بندی کی درخواست کے بعد فوجی تصادم رک گیا تھا۔