تازہ ترین
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026 تحریک انصاف کو عمران خان کی ’بینائی متاثر ہونے کا خدشہ‘سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟ January 27, 2026

وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے

پاسبان رپورٹ

دنیا کے دیگر بہت سے ممالک کے برعکس نہ تو کوئی معاشی بحران، نہ ہی وبائی مرض اور نہ ہی یوکرین جنگ چھوٹے سے ملک برونائی کی معیشت پر کچھ خاص منفی اثر ڈال سکا ہے۔

کورونا کی وبا کے دوران دنیا کے بڑے بڑے ممالک عوام کی فلاح کے لیے مختص رقم کو وبا سے نمٹنے کے لیے استعمال کرنے پر مجبور ہوئے، تو اُس وقت بھی برونائی وہ ملک تھا جس کے قرض کا تناسب مجموعی قومی آمدن کے مقابلے میں انتہائی کم تھا یعنی صرف 1.9 فیصد۔

لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ قرض کا جی ڈی پی کے تناسب سے کم ہونا کسی ملک کی صحت مند معیشت کی نشاندہی کرے۔

بہت سے ترقی پذیر ممالک میں بھی قرض کا تناسب جی ڈی پی سے کم ہے مگر اُس کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک پر چڑھے قرض کی سطح کم ہے مگر ساتھ ساتھ ویلتھ کریئیشن کی بھی۔

تاہم برونائی میں ایسا نہیں ہے۔

یہ چھوٹی سی ریاست اپنے تیل اور گیس کے وافر ذخائر کی بدولت دنیا میں اعلیٰ ترین معیار زندگی کے حامل ممالک میں سے ایک ہے۔ یہ دنیا کا چوتھا امیر ترین ملک ہے۔

برونائی
،تصویر کا کیپشنبرونائی ماضی میں برطانیہ کی کالونی تھا

برونائی میں سکول آف اوریئئنٹل اینڈ افریقن سٹڈیز میں معاشیات کے پروفیسر الریچ وولز کے مطابق ’برونائی ایک پیٹرو سٹیٹ (ایسی ریاست جس کی معیشت کا دارومدار تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدن پر ہو) ہے۔ خام تیل اور قدرتی گیس کی پیداوار اس کے جی ڈی پی کا تقریباً 90 فیصد ہے۔‘

ایک اندازے کے مطابق برونائی کے پاس سنہ 2017 کے آخر میں 1,100 ملین بیرل تیل کے ذخائر موجود تھے، جو تیل کے عالمی ذخائر کا 0.1 فیصد ہے۔ جبکہ اس ملک کے پاس 2.6 کھرب کیوبک میٹر گیس کے ذخائر بھی ہیں جو گیس کے عالمی ذخائر کا 0.13 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔