تحریر: محمد عزیز الرحمٰن
یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان کا نوجوان طبقہ آج صرف خواب نہیں دیکھ رہا بلکہ عملی طور پر دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز کے حل میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی محض 15 سالہ ایشال شوکت اسی باشعور اور باعمل نوجوان قیادت کی روشن مثال ہیں، جنہوں نے کم عمری کے باوجود ماحولیاتی تحفظ، انسانی خدمت، عوامی صحت اور سماجی مساوات کے میدان میں قومی اور عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی جدوجہد اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔

ایشال شوکت اس وقت کئی اہم بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔ وہ ورلڈ اگینسٹ سنگل یوز پلاسٹک (WASUP) کی چیف یوتھ پین ایشین ایمبیسیڈر، مڈلینڈ انٹرنیشنل ایڈ ٹرسٹ (برطانیہ) کی چیف یوتھ ایمبیسیڈر اور مڈلینڈ ایڈ ٹرسٹ پاکستان کی چیئرپرسن ہیں۔ انہیں عالمی شہرت یافتہ انسان دوست شخصیت پروفیسر ڈاکٹر اے آر گتراڈ OBE DL کی سرپرستی حاصل ہے، جن کی رہنمائی نے ایشال کی صلاحیتوں کو بین الاقوامی سطح پر نکھارا۔ اسی رہنمائی کے تحت وہ نہ صرف عالمی کانفرنسز اور مہمات میں فعال کردار ادا کر چکی ہیں بلکہ ایکرونیکون میں شائع ہونے والے تین بین الاقوامی تحقیقی مقالوں کی مشترکہ مصنفہ بھی ہیں

۔
ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ایشال شوکت کی خدمات محض تقاریر یا دعوؤں تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات پر مبنی ہیں۔ وہ اب تک 300 سے زائد درخت لگا چکی ہیں، WASUP ری سائیکلنگ یونٹ قائم کیا ہے جو ماہانہ 25 ٹن پلاسٹک بیگز ری سائیکل کرتا ہے، اور Silky Pearl Hand Sanitizer اور Nature Pura Water Purification Solution جیسے پائیدار حل متعارف کروا چکی ہیں، جو زیولائٹ اور مورنگا کے بیجوں کے ذریعے صاف پانی اور صحت بخش صفائی کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر اے آر گتراڈ کی کتاب The Story of Three Plastic Bottles کا چینی زبان میں ترجمہ کر کے اس پیغام کو عالمی سطح پر مزید وسعت دی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ Planetary Health Alliance (امریکہ) کی سرگرم رکن بھی ہیں، جہاں ماحولیاتی آلودگی اور

انسانی صحت کے باہمی تعلق پر کام کر رہی ہیں۔
انسانی خدمت کے میدان میں بھی ایشال شوکت کا کردار نہایت مؤثر اور قابلِ تقلید ہے۔ مڈلینڈ انٹرنیشنل ایڈ ٹرسٹ (برطانیہ) کے تعاون سے وہ اب تک 60 سے زائد ہینڈ پمپس نصب کروا چکی ہیں، خصوصاً ان اسکولوں میں جہاں بچوں کو صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ مستقبل میں مزید 400 ہینڈ پمپس نصب کرنے کا ان کا عزم اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ وقتی اقدامات کے بجائے دیرپا حل پر یقین رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مفت میڈیکل کیمپس کا انعقاد بھی کرتی ہیں، جہاں موتیے کے آپریشن، کلیفٹ لپ اور کلب فٹ کے علاج، اسلام آباد ہیئرنگ سینٹر کے تعاون سے 500 مفت سماعتی آلات، ادویات اور تشخیصی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

ایشال شوکت کا پہچان پراجیکٹ محروم خواتین اور بچوں کے لیے امید کی کرن بن چکا ہے۔ اس منصوبے کے تحت نہ صرف راشن کی تقسیم کی جاتی ہے بلکہ ہنر سکھانے کے پروگراموں کے ذریعے یتیموں اور بیواؤں کو خود کفیل بنانے کی عملی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی تسلسل میں GSK ویمن ایمپاورمنٹ سینٹر کے ذریعے یتیم اور نادار بچیوں کو مفت تعلیم، فیشن ڈیزائننگ، آئی ٹی، کوکنگ، سلائی، تیراکی اور لائبریری جیسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تاکہ وہ ایک باوقار اور خود مختار مستقبل کی طرف بڑھ سکیں۔
ایشال شوکت نہ صرف سماجی خدمت بلکہ تعلیم اور زراعت کے میدان میں بھی فعال ہیں۔ وہ پہچان پراجیکٹ پاکستان کی چیئرپرسن ہیں اور EmpowerGrain Project کے ذریعے 100 سے زائد کسانوں کی پیداوار اور معاشی حالات بہتر بنانے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نادار بچوں کے لیے مفت تعلیم اور سمر لرننگ کیمپس کا انعقاد بھی ان کی سرگرمیوں میں شامل ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ایشال شوکت نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بیلٹ اینڈ روڈ کانفرنس چین (2025)، چینی جامعات میں ماحولیاتی تبدیلی پر لیکچرز، اور یونیورسٹی آف تھائی لینڈ (2024) میں بطور مہمان مقرر شرکت کی۔ وہ GMUN جنرل اسمبلی قازقستان کی کو-چیئر رہ چکی ہیں، ہارورڈ ماڈل یونائیٹڈ نیشنز (HMUN) افریقہ 2026 میں آفیشل ڈیلیگیٹ کے طور پر شامل ہوئیں، اور CAYA سمٹ پاکستان (2025) میں 11 ممالک کے نمائندوں کے ساتھ پاکستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے UNITAR کے عالمی سرٹیفائیڈ پروگرامز Becoming a Climate Champion اور International Climate Negotiation بھی مکمل کیے۔

ایشال شوکت کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے، جن میں Rising Scholar Award (Lumiere 2025)، International Women Excellence Award (Dubai 2025)، International Iconic Excellence Award (Maldives 2025)، Oxford Summer Programme Scholarship (2026) اور کئی گولڈ، سلور اور برانز میڈلز شامل ہیں۔ فلسطینی طلبہ کی حمایت پر انہیں اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے اعزازی ٹرافی بھی دی گئی۔
ایشال شوکت کی جدوجہد اس حقیقت کی عکاس ہے کہ قیادت کے لیے عمر نہیں بلکہ وژن، خلوص اور عمل درکار ہوتا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ، تعلیم اور انسانی خدمت کے میدان میں ان کی مسلسل کوششیں نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے نوجوانوں کے لیے حوصلے، امید اور مثبت تبدیلی کی روشن مثال ہیں۔







