تحریر :عاطف ایوب بٹ
یونیورسٹی آف چناب میں گذشتہ روز ایک انتہائی اہم نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں پروفیسر شیخ عبدالرشید کی گفتگو آج کے نوجوان کے لیے ایک سنجیدہ فکری پیغام تھی۔” ہم عمروں کا دباؤ اور اخلاقی سمجھوتہ“ محض ایک نفسیاتی موضوع نہیں بلکہ ایک سماجی چیلنج بن چکا ہے جو تعلیمی اداروں سے نکل کر پورے معاشرے کو متاثر کر رہا ہے۔
نوجوانی وہ عمر ہے جہاں انسان اپنی شناخت بناتا ہے، مگر بدقسمتی سے آج شناخت اصولوں سے نہیں بلکہ مقبولیت کے پیمانوں سے ناپی جاتی ہے۔ دوستوں کی واہ واہ، گروہ کا حصہ بننے کی خواہش اور سوشل میڈیا کی توجہ نوجوان کو اس مقام تک لے آتی ہے جہاں وہ آہستہ آہستہ اپنے اخلاقی اصولوں سے دستبردار ہو جاتا ہے۔
پروفیسر شیخ عبدالرشید نے بجا طور پر اس امر کی نشاندہی کی کہ صرف مقبول ہونے یا کسی گروہ میں شامل رہنے کے لیے اپنے ذاتی کردار اور سچائی سے سمجھوتہ کرنا فکری کمزوری کی علامت ہے۔ وقتی قبولیت انسان کو وقتی خوشی تو دے سکتی ہے، مگر طویل المدت میں یہی رویہ ذہنی الجھن، خود اعتمادی کی کمی اور اخلاقی خلا کو جنم دیتا ہے۔
ہم عمروں کا دباؤ ہر صورت منفی نہیں ہوتا، لیکن جب یہ دباؤ نوجوان کو جھوٹ، نقل، بددیانتی، غیر ذمہ دارانہ طرزِ زندگی یا غلط طرزِ فکر کی طرف لے جائے تو یہ دباؤ نہیں بلکہ اخلاقی زوال کا راستہ بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نوجوان ہر اس کام کو درست مان لے جو اکثریت کر رہی ہو؟ یا پھر سچ اور غلط کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کرے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں نوجوان کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ بھیڑ کا حصہ بننا چاہتا ہے یا اپنے ضمیر کی آواز پر چلنا چاہتا ہے۔ یہی فیصلہ اس کی آئندہ زندگی کا رخ متعین کرتا ہے۔






