تازہ ترین
ہائی کمیشنِ سری لنکا، اسلام آباد میں سری لنکا کی آزادی کی 78ویں سالگرہ باوقار انداز میں منائی گئی February 6, 2026 وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026

غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے جدید اقدامات، پاکستان میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال شروع

پاسبان نیوز اسلام آباد:

پاکستان نے غیر قانونی ہجرت اور بیرونِ ملک جا کر بھیک مانگنے کے رجحان کی مؤثر روک تھام کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی جدید نظام متعارف کرا دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں اب تک 31 ہزار افراد کو مختلف ممالک سے ڈیپورٹ کیا جا چکا ہے، جبکہ 51 ہزار سے زائد افراد کو بیرونِ ملک روانگی سے قبل ہی روک لیا گیا ہے۔

وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام خاص طور پر ایسے مسافروں کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جن کے سفری دستاویزات مشکوک ہوں یا جن کے سفر کا مقصد واضح نہ ہو۔ اے آئی سسٹم ڈیٹا اینالیسس، سفری تاریخ، ویزا نوعیت اور دیگر معلومات کی بنیاد پر مسافروں کی اسکریننگ کرتا ہے، جس سے انسانی غلطی کے امکانات کم اور فیصلوں کی شفافیت میں اضافہ ہوا ہے۔

حکام کے مطابق غیر قانونی ہجرت اور بیرونِ ملک بھیک مانگنے کے واقعات پاکستان کے عالمی تشخص کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں، جس کے باعث متعدد ممالک نے پاکستانی مسافروں کے لیے سخت پالیسیاں نافذ کیں۔ نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ان مسائل پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ قانونی اور باوقار روزگار کے لیے جانے والے پاکستانیوں کو سہولت جبکہ غیر قانونی عناصر کو روکا جا سکے۔

امیگریشن حکام کا مزید کہنا ہے کہ اے آئی سسٹم کو ملک کے بڑے ایئرپورٹس پر مرحلہ وار نافذ کیا گیا ہے، اور مستقبل میں اسے تمام بین الاقوامی سرحدی مقامات تک وسعت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف غیر قانونی ہجرت کی حوصلہ شکنی کرے گا بلکہ پاکستان کے لیے بین الاقوامی اعتماد کی بحالی اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کے وقار کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔