ڈھاکہ۔ 20 دسمبر۔ انقلابی نوجوان شہید عثمان ہادی کی نماز جنازہ میں امیر جماعت بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن، وزیر اعظم بنگلہ دیش ڈاکٹر محمد یونس، قومی قیادت اور لاکھوں نوجوانوں کی شرکت۔۔

ڈھاکہ (20 دسمبر): انقلابی نوجوان رہنما اور شہید عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ ڈھاکہ میں ادا کر دی گئی، جس میں بنگلہ دیش کی اعلیٰ سیاسی و قومی قیادت، سماجی رہنماؤں اور لاکھوں نوجوانوں نے شرکت کی۔ جنازے کا منظر عوامی جذبات، سیاسی شعور اور قومی یکجہتی کی بھرپور عکاسی کرتا رہا۔
نمازِ جنازہ میں امیر جماعت بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن، وزیر اعظم بنگلہ دیش ڈاکٹر محمد یونس سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، منتخب نمائندگان، سول سوسائٹی کے اراکین اور انسانی حقوق کے کارکن شریک ہوئے۔ شرکاء نے شہید عثمان ہادی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی جدوجہد، جرات اور عوامی وابستگی کو سراہا۔

عثمان ہادی کو انقلابی نوجوان تحریک میں ایک مؤثر آواز سمجھا جاتا تھا۔ ان کی ناگہانی شہادت نے ملک بھر میں شدید رنج و غم کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ نوجوان طبقے میں ان کے نظریات اور جدوجہد کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
جنازے کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے رضاکاروں نے اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں شہید عثمان ہادی کی میت کو آبائی قبرستان روانہ کیا گیا، جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیے جانے کا امکان ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق عثمان ہادی کی شہادت نہ صرف بنگلہ دیش کی نوجوان سیاست کے لیے ایک بڑا نقصان ہے بلکہ یہ واقعہ آئندہ سیاسی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔






