
لاہور / راولپنڈی (21 دسمبر):
پنجاب حکومت کے متنازعہ اور غیر آئینی بلدیاتی ایکٹ 2025 کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے آج پورے ملک میں بھرپور احتجاج کیا گیا۔ پنجاب کے 9 ڈویژنل ہیڈکوارٹرز لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ساہیوال، ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور میں بارش، دھند اور شدید سردی کے باوجود عوامی دھرنے جاری رہے، جن میں کارکنان، بلدیاتی نمائندوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
احتجاجی دھرنوں کا مرکزی نقطہ پنجاب کا نیا بلدیاتی قانون تھا جسے جماعت اسلامی نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 140-اے کے منافی قرار دیتے ہوئے “کالا قانون” قرار دیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ قانون بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے بجائے اختیارات بیوروکریسی کے حوالے کرتا ہے، جو جمہوریت اور عوامی حقِ حکمرانی کی صریح نفی ہے۔
راولپنڈی کے مرکزی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بلدیاتی نظام کوئی محکمہ نہیں بلکہ نچلی سطح کی حکومت ہے، جس کے بغیر جمہوریت نامکمل رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کا بلدیاتی اداروں پر قبضہ آئینی تقاضوں کے خلاف ہے اور عوام اس نظام کو قبول نہیں کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی پرامن، آئینی اور عوامی جدوجہد کے ذریعے بااختیار بلدیاتی نظام کی بحالی تک احتجاج جاری رکھے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بلدیاتی ایکٹ 2025 کو واپس لیا جائے اور آئین کے مطابق سیاسی، مالی اور انتظامی اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کیے جائیں۔
تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے دھرنے قانونی تقاضوں اور پرامن انداز کے مطابق منعقد کیے گئے۔ سیکیورٹی کے مناسب انتظامات کیے گئے جبکہ شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز کے ذریعے آئینی بالادستی، جمہوریت اور عوامی اختیارات کے حق میں نعرے لگائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق جماعت اسلامی کے یہ ملک گیر دھرنے بلدیاتی نظام کے مسئلے کو ایک بار پھر قومی سطح پر اجاگر کر رہے ہیں، اور آنے والے دنوں میں اس کے سیاسی اور حکومتی پالیسیوں پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید منظم اور وسیع کیا جائے گا۔






