تازہ ترین
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026 تحریک انصاف کو عمران خان کی ’بینائی متاثر ہونے کا خدشہ‘سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟ January 27, 2026

تئیس دسمبر اسلامی جمعیت طلبہ — نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت کا درخشاں سفر

تحریر :عاطف ایوب بٹ

تئیس دسمبر انیس سو سنتالیس کی نو خیز اسلامی ریاست پاکستان میں طلبہ کی فکری، اخلاقی اور نظریاتی تربیت کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ محض ایک طلبہ تنظیم نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت تربیتی تحریک ہے جس نے سات دہائیوں سے زائد عرصے میں لاکھوں نوجوانوں کے اذہان و کردار کو سنوارا۔
اسلامی جمعیت طلبہ کا قیام اس احساس کے تحت عمل میں آیا کہ نئی مملکت کو ایسے تعلیم یافتہ نوجوان درکار ہیں جو محض ڈگری یافتہ نہ ہوں بلکہ کردار، شعور، دیانت اور نظریاتی بصیرت سے بھی آراستہ ہوں۔ جمعیت کا بنیادی مقصد ابتدا ہی سے یہی رہا کہ کیمپس سے ایسی قیادت تیار ہو جو ملک و ملت کی فکری، اخلاقی اور سماجی رہنمائی کر سکے۔
جمعیت کی سب سے نمایاں پہچان اس کی کردار سازی ہے۔ سچائی، امانت، نظم و ضبط، حیا، خدمتِ خلق اور اجتماعی ذمہ داری وہ اقدار ہیں جنہیں جمعیت نے اپنے کارکنان کی عملی زندگی کا حصہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ جمعیت سے وابستہ رہنے والے افراد تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ عملی زندگی میں بھی نمایاں مقام حاصل کرتے رہے۔
جمعیت نے نوجوانوں کو صرف نعرے نہیں دیے بلکہ مطالعہ، مکالمہ، تربیت اور عمل کے ذریعے انہیں باشعور بنایا۔ دروسِ قرآن، فکری نشستیں، تربیتی اجتماعات اور مطالعاتی حلقے جمعیت کے مستقل پروگرامز کا حصہ رہے
اسلامی جمعیت طلبہ کی قیادت کا منصب ناظمِ اعلیٰ کہلاتا ہے، جو تنظیم کے نظم و ضبط اور تربیتی سمت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ مختلف ادوار میں جمعیت کے ناظمینِ اعلیٰ نے نہایت دیانت، قربانی اور جرأت کے ساتھ تنظیم کی قیادت کی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جمعیت کی قیادت سے گزرنے والے افراد بعد ازاں ملک کے ممتاز تعلیمی، سیاسی، صحافتی اور فکری حلقوں میں نمایاں خدمات انجام دیتے رہے، جو جمعیت کی تربیت کی زندہ مثال ہے۔
اسلامی جمعیت طلبہ نے ہمیشہ طلبہ کے حقیقی مسائل کو اپنی ترجیحات میں رکھا۔
فیسوں میں اضافہ’
تعلیمی سہولیات کی کمی’
امتحانی نظام کی خرابی’
ہراسمنٹ اور عدم تحفظ اور
طلبہ یونینز کی بحالی-
جمعیت نے ان مسائل پر منظم، پُرامن اور مؤثر جدوجہد کی۔ جمعیت کا امتیاز یہ رہا کہ اس کی جدوجہد تشدد سے پاک، دلیل پر مبنی اور نظم و ضبط کے دائرے میں رہی۔
اسلامی جمعیت طلبہ نے طلبہ کی ہمہ جہت نشوونما کے لیے مختلف پروگرامز متعارف کروائے، جن میں شامل ہیں:
مطالعاتی سرکلز اور فکری نشستیں’
تربیتی کیمپ اور ورکشاپس’
کیریئر گائیڈنس پروگرامز’
تعلیمی و سماجی مہمات’
نئے طلبہ کے لیے ویلکم پروگرامز’
سماجی خدمت اور رفاہی سرگرمیاں
یہ تمام پروگرامز طلبہ کو ایک ذمہ دار شہری، باکردار مسلمان اور باشعور انسان بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
آج جب معاشرہ فکری انتشار، اخلاقی زوال اور بے مقصدیت کا شکار ہے، اسلامی جمعیت طلبہ کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ یہ پیغام ہے علم کے ساتھ کردار، آزادی کے ساتھ ذمہ داری اور جدوجہد کے ساتھ اخلاق کا۔
تئیس دسمبر اسلامی جمعیت طلبہ کا یومِ تاسیس اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ نوجوان نسل کو محض ہجوم نہیں بلکہ کردار کی قوت بنایا جائے، کیونکہ قوموں کی تقدیر نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے—اور جمعیت انہی ہاتھوں کو امانت اور دیانت سکھاتی ہے۔