تازہ ترین
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026 تحریک انصاف کو عمران خان کی ’بینائی متاثر ہونے کا خدشہ‘سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟ January 27, 2026

بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات میں تاریخی بحران

بنگلہ دیش میں حالیہ پرتشدد مظاہروں کے دوران ایک ہندو شہری کی ہلاکت کے بعد بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید خراب ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر تعلقات کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں اور سفارتی سطح پر احتجاج بھی ریکارڈ کرایا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ ہندو شہری ڈیپو چندرا کو ایک مشتعل ہجوم نے توہینِ مذہب کے الزام کے بعد ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کے بعد انڈیا میں ہندو انتہا پسند گروہوں کی جانب سے شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب دارالحکومت ڈھاکہ میں طالبعلم رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد پُرتشدد مظاہرے جاری تھے۔ عثمان ہادی کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے قتل میں مرکزی ملزم کا تعلق سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ سے ہے، اور یہ بھی الزام لگایا گیا کہ ملزم واردات کے بعد انڈیا فرار ہو گیا۔

تاہم بنگلہ دیشی پولیس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں کہ مشتبہ شخص ملک چھوڑ چکا ہے۔ اس کے باوجود ان دعوؤں کے باعث بنگلہ دیش میں انڈیا مخالف جذبات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے کئی شہروں میں ویزا سروسز عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ انڈیا اور بنگلہ دیش، دونوں کا کہنا ہے کہ ان کے سفارتی مشنز کو مناسب سکیورٹی فراہم نہیں کی جا رہی۔

اسی تناظر میں حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفارتی نمائندوں کو طلب کر کے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔

ڈھاکہ میں تعینات انڈیا کے سابق ہائی کمشنر ریوا گنگولی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ حالات مزید خراب نہیں ہوں گے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عدم استحکام کے باعث یہ کہنا مشکل ہے کہ صورتحال کس سمت جا رہی ہے۔