
پاسبان نیوز: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت اپنی نااہلی اور ناکام معاشی پالیسیوں کو چھپانے کے لیے قومی اداروں کی فروخت پر تلی ہوئی ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وہ کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے قومی ایئرلائن کی فروخت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب پی آئی اے منافع میں آ چکی تھی تو پھر اسے فروخت کرنے کی آخر کیا ضرورت تھی؟ انہوں نے کہا کہ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ قومی خزانے میں 10 ارب روپے آئے ہیں، جبکہ یہ رقم تو پرانے جہاز کی قیمت کے برابر بھی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں ایک چھوٹے طیارے کی قیمت کم از کم 27 ارب روپے ہے، جبکہ حکومت نے اس سے بھی کم قیمت میں پوری ایئرلائن فروخت کر دی۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ پی آئی اے نے رواں سال 112 ارب روپے کی آمدن حاصل کی اور 10 ارب روپے منافع کمایا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ادارہ بحالی کی جانب گامزن تھا۔ ایسے میں پی آئی اے کو فروخت کرنا قومی مفاد کے خلاف اور مستقبل کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی ادارے ملک کے اثاثے ہوتے ہیں، انہیں فروخت کر کے وقتی ریلیف حاصل کرنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے سمیت دیگر قومی اداروں کی نجکاری کے فیصلوں پر نظرثانی کی جائے اور انہیں بہتر انتظام، شفافیت اور احتساب کے ذریعے مضبوط بنایا جائے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں اور ایسے فیصلوں کے خلاف مزاحمت کریں جو ملک کی معیشت اور خودمختاری کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔






