تازہ ترین
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026 تحریک انصاف کو عمران خان کی ’بینائی متاثر ہونے کا خدشہ‘سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟ January 27, 2026

پی آئی اے کو اونے پونے بیچ کر قومی مفادات کا سودا کر دیا گیا، حکومت اپنی نااہلی چھپا رہی ہے: حافظ نعیم الرحمن

پاسبان نیوز: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت اپنی نااہلی اور ناکام معاشی پالیسیوں کو چھپانے کے لیے قومی اداروں کی فروخت پر تلی ہوئی ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وہ کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے قومی ایئرلائن کی فروخت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب پی آئی اے منافع میں آ چکی تھی تو پھر اسے فروخت کرنے کی آخر کیا ضرورت تھی؟ انہوں نے کہا کہ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ قومی خزانے میں 10 ارب روپے آئے ہیں، جبکہ یہ رقم تو پرانے جہاز کی قیمت کے برابر بھی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں ایک چھوٹے طیارے کی قیمت کم از کم 27 ارب روپے ہے، جبکہ حکومت نے اس سے بھی کم قیمت میں پوری ایئرلائن فروخت کر دی۔

امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ پی آئی اے نے رواں سال 112 ارب روپے کی آمدن حاصل کی اور 10 ارب روپے منافع کمایا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ادارہ بحالی کی جانب گامزن تھا۔ ایسے میں پی آئی اے کو فروخت کرنا قومی مفاد کے خلاف اور مستقبل کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ادارے ملک کے اثاثے ہوتے ہیں، انہیں فروخت کر کے وقتی ریلیف حاصل کرنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے سمیت دیگر قومی اداروں کی نجکاری کے فیصلوں پر نظرثانی کی جائے اور انہیں بہتر انتظام، شفافیت اور احتساب کے ذریعے مضبوط بنایا جائے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں اور ایسے فیصلوں کے خلاف مزاحمت کریں جو ملک کی معیشت اور خودمختاری کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔