تازہ ترین
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026 تحریک انصاف کو عمران خان کی ’بینائی متاثر ہونے کا خدشہ‘سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟ January 27, 2026

جامعہ گجرات کا 53ویں سنڈیکیٹ اجلاس

گجرات (پ ر)جامعہ گجرات کے53ویں سنڈیکیٹ اجلاس میں معروف شہرت کے حامل غیر ملکی ماہرینِ تعلیم کو بطور ایڈجنکٹ فیکلٹی شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی۔اس اقدام کا مقصد طلبہ کو دورِ حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق تدریسی وتحقیقی وژن سے رُوشناس کرواتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں اُنہیں سرفراز و کامران بنانا ہے۔53ویں سنڈیکیٹ اجلاس کا انعقاد حافظ حیات کیمپس میں ہوا۔اجلاس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور الحق تمغہ امتیاز نے کی۔ اجلاس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اراکینِ سنڈیکیٹ نے آن لائن اور بالمشافہ شرکت کی۔پروفیسر ڈاکٹر ظہور الحق نے افتتاحی کلمات میں سنڈیکیٹ کی مسلسل رہنمائی پراراکین کا شکریہ ادا کیا۔پروفیسر ڈاکٹر ظہور الحق نے کہا کہ دورِ حاضر میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے معیاری سائنسی و سماجی تحقیق کو بخوبی پروان چڑھاتے ہوئے اپنے مقام و مرتبہ کو بہتر سے بہترین بنا سکتے ہیں۔جامعہ گجرات اپنی بین الاقوامی شناخت کو بہترین بنانے اور ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ عالمی رینکنگ میں مزید مستحکم مقام حاصل کرنے کے لیے معروف غیر ملکی ماہرین تعلیم کی خدمات بطور ایڈجنکٹ فیکلٹی حاصل کرے گی۔

اس اقدام کا مقصد انٹرنیشنل فیکلٹی انڈیکیٹر کو مضبوط و نمایاں بناتے ہوئے عالمی سطح پر تحقیقی و تعلیمی روابط کو فروغ دینا ہے۔مزید براں اس عمل سے طلبہ کی ذہنی و فکری وسعت میں اضافہ ہو گا۔اس تجویز کے تحت جامعہ گجرات میں غیر ملکی ماہرینِ تعلیم کی بطور ایڈجنکٹ فیکلٹی تقرری اعزازی ہو گی۔ یہ اعزازی تقرریاں دو سالہ مدت کی بنیاد پر ہوں گی۔ان اعزازی تقرریوں سے یونیورسٹی پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔ایڈجنکٹ فیکلٹی جامعہ گجرات کے طلبہ و اساتذہ کے لیے لیکچر،سیمینار،ویبینار،مختلف سطح پر نصابات کی تشکیل اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں میں ہاتھ بٹاتے ہوئے ایک فعال کردار ادا کرے گی۔اس امر سے جامعہ گجرات کو عالمی سطح پر موجود تعلیمی و تحقیقی منظر نامہ پر ایک نمایاں مقام حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔یہاں پر یاد رہے کہ ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2026ء میں ریسرچ کوالٹی کے لحاظ سے یونیورسٹی آف گجرات 363ویں نمبر پر اور پاکستان کی دس بہترین جامعات میں شامل ہوئی ہے۔ کوالٹی انہانسمنٹ سیل (QEC) نے بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن سے 85.09 پوائنٹس کے ساتھ“W”کیٹیگری حاصل کی ہے۔ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق یہ سب سے بڑی کیٹیگری ہے۔ سنڈیکیٹ کے اراکین نے جامعہ کی کامیابیوں، مستحکم مالی نظم، بڑھتی ہوئی شہرت، اور جامع تعلیمی پالیسیوں کو سراہا۔ انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر ظہور الحق کی وژنری قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رہنمائی میں جامعہ گجرات ایک متحرک، جدید اور مستقبل بین اعلیٰ تعلیمی ادارے کے طور پر اُبھری ہے۔ اراکین نے سنڈیکیٹ کے52ویں اجلاس کے فیصلوں کی توثیق و اطلاق کے علاوہ انڈومنٹ فنڈ کے تحت فنڈ مینجمنٹ بورڈ کے دوسرے اجلاس کی سفارشات کی منظوری بھی دی۔HEDریکروٹمنٹ پالیسی2021کے سیکشن7کے تحت ریکروٹمنٹ کمپلینٹ ریڈریسل سیل کی تشکیل نو اور پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچ فیلو شپ پالیسی 2025میں مختلف اصلاحات کا عندیہ دیا گیا۔مزید براں کئی برسوں سے غیر حاضر فیکلٹی کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے-اکیڈمک کونسل اور انویسٹمنٹ کمیٹیوں کی سفارشات کی منظوری دی گئی جبکہ مختلف باڈیز کے قواعد و ضوابط پر بھی نظرِ ثانی کی گئی ہے۔علاوہ ازیں اکڈیمک کونسل کے28ویں اجلاس کی سفارشات کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں سنڈیکیٹ اراکین MPA وقار احمد چیمہ، وائس چانسلر یونیورسٹی آف ٹیکسلا پروفیسر ڈاکٹر محمد عنایت اللہ خان،رجسٹرار محمد نعیم بٹ،ڈین پروفیسر ڈاکٹر شاہد اقبال، ڈین پروفیسر ڈاکٹر زاہد یوسف اور شیخ طارق محمود بزنس مین و اوورسیز پاکستانی شامل تھے۔MPAطارق سبحانی،MPAتاشفین صفدر،چیئرپرسنPHECلاہورڈاکٹر اقرار احمد خاں، وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس، پروفیسر ڈاکٹر طارق محمودسابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف نارووال نمائندہ چیئر مین HECاسلام آباد،پروفیسر ڈاکٹر ریحان صادق شیخ ڈائریکٹرCAMBپنجاب یونیورسٹی،کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن وچیئرمین BISEگوجرانوالہ نوید حیدر شیرازی، ایڈیشنل سیکرٹری یونیورسٹیز زاہدہ اظہرنمائندہ سیکرٹریHED لاہور،ایڈیشنل سیکرٹری فنانس ڈیپارٹمنٹ لاہور محمد جواد حیدر،ایڈیشنل سیکرٹری ایڈوائزری شاہد امتیاز نمائندہ سیکرٹری قانون و پارلیمانی افیئرز لاہور اور ڈین پروفیسر ڈاکٹر فیصل محمود مرزانے آن لائن شرکت کی۔