خبر (پاسبان نیوز): ڈھاکا/نئی دہلی: بنگلہ دیش میں پاکستان کے ساتھ تعلقات پر نظرِثانی کی سوچ اب بتدریج ایک نمایاں اور سنجیدہ پالیسی مباحثے کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ سابق بھارتی ہائی کمشنر ٹی سی راگھون کے حالیہ تبصرے کے مطابق بنگلہ دیشی سیاسی و سفارتی حلقوں میں یہ احساس ابھر رہا ہے کہ 1971 کے بعد پیدا ہونے والی تلخیوں کو ازسرِنو جانچنے اور 1947 کے تاریخی رشتے کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانے کی گنجائش موجود ہے۔
ٹی سی راگھون کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ آنے والے فروری کے عام انتخابات میں بھی اس سوچ کے اثرات نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش کی نئی سیاسی قیادت اور رائے عامہ کا ایک بڑا طبقہ خارجہ پالیسی میں توازن، علاقائی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ پر زور دے رہا ہے، جس کے تحت پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مستقل کشیدگی کے دائرے میں رکھنے کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں آگے بڑھانے کی بات کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلہ دیش میں یہ احساس بھی تقویت پا رہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں معاشی تعاون، تجارتی روابط اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان جیسے بڑے ملک سے تعلقات کی بہتری ناگزیر ہے۔ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد قائم ہونے والے مشترکہ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط کو اب ایک بار پھر سفارتی مکالمے کی بنیاد بنانے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔
ذرائع کے مطابق فروری کے انتخابات میں حصہ لینے والی بعض سیاسی قوتیں ماضی کی تلخیوں سے ہٹ کر مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھنے کی بات کر رہی ہیں۔ ان جماعتوں کے منشور میں خارجہ پالیسی کو زیادہ خودمختار، کثیرالجہتی اور علاقائی تعاون پر مبنی بنانے کے اشارے ملتے ہیں، جس میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا۔
سابق بھارتی سفارتکار ٹی سی راگھون کے مطابق یہ رجحان بھارت کے لیے بھی ایک سفارتی پیغام ہے کہ خطے میں بدلتی سیاسی ترجیحات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش اب اپنی خارجہ پالیسی کو صرف ایک رخ پر رکھنے کے بجائے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جس میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری بھی شامل ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سوچ عملی پالیسی میں ڈھلتی ہے تو جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک نئی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے، جو نہ صرف پاکستان اور بنگلہ دیش بلکہ پورے خطے کے لیے اہم سفارتی اور معاشی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔






