خبر (پاسبان نیوز – کھاریاں): انجمن تاجران جی ٹی روڈ کھاریاں کے آئندہ انتخابات کے لیے انتخابی سرگرمیاں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، جہاں مختلف تاجر گروپس کی جانب سے امیدواروں کے اعلانات نے انتخابی منظرنامے کو واضح اور مقابلے کو سنجیدہ بنا دیا ہے۔ تاجروں کے حلقوں میں مشاورت، ملاقاتوں اور رابطہ مہم میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس سے شہر کے سب سے بڑے تجارتی مرکز میں جمہوری عمل کی اہمیت اجاگر ہو رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق تاجر ویلفیئر گروپ نے اپنی انتخابی ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے صدر کے لیے چوہدری راشد محمود، جنرل سیکرٹری کے لیے سید مبشر حسین شاہ اور فنانس سیکرٹری کے لیے مرزا محمد آصف کو میدان میں اتار دیا ہے۔ گروپ قیادت کا کہنا ہے کہ ان امیدواروں کا مقصد تاجر برادری کے معاشی تحفظ، کاروباری سہولتوں کے فروغ اور انتظامی اداروں کے ساتھ مؤثر رابطے کو مضبوط بنانا ہے۔ امیدواروں کے اعلان کے موقع پر جی ٹی روڈ کے تاجروں کی بڑی تعداد موجود تھی، جسے گروپ کے لیے ایک مضبوط عوامی تائید قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب تاجر تحفظ گروپ نے بھی اپنے امیدواروں کا باضابطہ اعلان کر کے انتخابی دوڑ میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا ہے۔ اس گروپ کی جانب سے صدر کے لیے ملک محمد نعیم، جنرل سیکرٹری کے لیے حسن منیر سیٹھی اور فنانس سیکرٹری کے لیے شہزاد اعظم تھپلہ کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ گروپ رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ان کی ترجیح تاجروں کے حقوق کا تحفظ، ٹیکس اور بلدیاتی مسائل کا حل اور جی ٹی روڈ کو ایک منظم اور فعال تجارتی مرکز بنانا ہے۔
تاجر حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں گروپس کی جانب سے مضبوط اور تجربہ کار امیدوار سامنے آنے کے بعد انتخابات میں واضح مقابلے کی فضا بن چکی ہے، جو انجمن تاجران کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
انتخابی عمل کو شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے آخر میں مین جی ٹی روڈ کھاریاں کا الیکشن بورڈ بھی تشکیل دے دیا گیا ہے۔ تمام تاجر گروپس کی مشاورت سے قائم کیے گئے اس متفقہ الیکشن بورڈ میں چوہدری عنصر بھدر، ملک ظہور اعوان، چوہدری سہیل اکرم، عامر ندیم وسن، فہد منیر اور چوہدری محمد افضال شامل ہیں۔ الیکشن بورڈ کو انتخابات کے ضابطۂ اخلاق پر عملدرآمد، کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ اور پولنگ کے تمام مراحل کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
تاجر برادری کا کہنا ہے کہ انجمن تاجران جی ٹی روڈ کھاریاں کے یہ انتخابات نہ صرف مقامی قیادت کے تعین کا ذریعہ ہیں بلکہ شہر کی تجارتی سمت اور کاروباری مستقبل کے لیے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہوں گے۔






