تازہ ترین
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026 تحریک انصاف کو عمران خان کی ’بینائی متاثر ہونے کا خدشہ‘سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟ January 27, 2026

سابق بنگلادیشی وزیراعظم خالدہ ضیا 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

رپورٹس کے مطابق خالدہ ضیا جگر کے عارضے سمیت کئی امراض میں مبتلا تھیں اور کافی عرصے سے اسپتال میں زیر علاج تھیں تاہم آج وہ خالق حقیقی سے جا ملیں،  ان کا انتقال دارالحکومت ڈھاکا کے اسپتال میں مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے ہوا۔

گزشتہ روز ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو انتہائی تشویشناک قرار دیا تھا، اس حوالے سے ان کا علاج کرنے والے میڈیکل بورڈ کے رکن ڈاکٹر ضیاء الحق کا کہنا تھا کہ خالدہ ضیا کو لائف سپورٹ پر رکھا گیا ہے اور باقاعدگی سے ڈائیلاسس کیا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب بھی ڈائیلاسس روکا جاتا ہے تو ان کی حالت میں نمایاں طور پر بگاڑ آ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ عمر اور متعدد پیچیدہ بیماریوں کے باعث ایک ساتھ ہر بیماری کا علاج ممکن نہیں رہا۔

خالدہ ضیا بنگلا دیش کی معروف سیاستدان تھیں، جنہوں نے 1991 سے 1996 اور پھر 2001 سے 2006 تک ملک کی وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ بنگلا دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں جبکہ انہیں مسلم دنیا میں بے نظیر بھٹو کے بعد دوسری خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔

خالدہ ضیا بنگلادیش کے سابق صدر ضیاء الرحمان کی اہلیہ تھیں۔ سیاسی کیریئر کے دوران ان پر کرپشن کے الزامات لگے۔ انہیں 2018 میں 5 برس کیلئے جیل بھی کاٹنا پڑی تھی۔ عوامی لیگ کی لیڈر شیخ حسینہ واجد سے ان کی طویل سیاسی رقابت بھی رہی۔ بالآخر شیخ حسینہ واجد کو پچھلے سال حکومت چھوڑنا پڑگئی تھی۔ 

یاد رہےکہ خالدہ ضیا کے بیٹے اور بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے عبوری چیئرمین طارق رحمان چند روز قبل 17 سالہ جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس پہنچے تھے، ان کی واپسی ایسے وقت میں ہو ئی  جب بنگلادیش میں اہم انتخابات کا انعقاد ہونے والا ہے۔ طارق رحمان 2008 میں 18 ماہ قید کے بعد علاج اور دیگر وجوہات کی بنا پر برطانیہ چلے گئے تھے۔