تازہ ترین
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026 تحریک انصاف کو عمران خان کی ’بینائی متاثر ہونے کا خدشہ‘سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟ January 27, 2026

تاریخ رقم: ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بن گئے، قرآنِ پاک پر حلف اٹھا لیا

خبر (پاسبان نیوز – عالمی): نیویارک کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور تاریخی سنگِ میل اس وقت عبور ہوا جب ظہران ممدانی نے شہر کے 111ویں میئر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ وہ نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ہیں، جنہوں نے حلف برداری کی تقریب میں قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا، جو بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا۔

حلف برداری کی پروقار تقریب میں شہر کی سیاسی، سماجی اور مختلف کمیونٹیز کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر ظہران ممدانی نے کہا کہ

“میئر نیویارک کا حلف اٹھانا میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے، میں اس ذمہ داری کو امانت سمجھ کر نبھاؤں گا اور شہر کے تمام شہریوں کے لیے بلا تفریق کام کروں گا۔”

ظہران ممدانی کی کامیابی کو نہ صرف امریکی مسلم کمیونٹی بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت نیویارک جیسے عالمی شہر میں تنوع، شمولیت اور مذہبی ہم آہنگی کی مضبوط علامت ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ظہران ممدانی کی قیادت نیویارک کی شہری سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، جہاں اقلیتوں کی نمائندگی اور بین المذاہب ہم آہنگی کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔

عالمی سطح پر مختلف ممالک کے رہنماؤں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مسلم دنیا کی نمایاں شخصیات نے ظہران ممدانی کو اس تاریخی کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ نیویارک کو ترقی، انصاف اور مساوات کی راہ پر مزید آگے لے جائیں گے۔