کراچی کے علاقے مائی کلاچی روڈ پر مین ہول سے چار لاشیں ملنے کے دل دہلا دینے والے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ سول اسپتال کراچی میں چاروں لاشوں کا ابتدائی پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد انہیں سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق لاشیں کئی روز پرانی ہیں اور شدید مسخ ہونے کے باعث تاحال ان کی شناخت نہیں ہو سکی، فنگر پرنٹس بھی خراب ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے نادرا کے ڈیٹا بیس سے میچ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولین میں 14 سالہ لڑکا، 10 سالہ لڑکا، 15 سالہ لڑکی اور 35 سے 40 سال کی ایک خاتون شامل ہیں۔
14 سالہ لڑکے کے سر، چہرے اور گردن پر تشدد کے نشانات پائے گئے، 10 سالہ لڑکے کی لاش گلا کٹی ہوئی حالت میں ملی، 15 سالہ لڑکی کے سر، چہرے اور گردن پر تشدد کے آثار موجود ہیں، جبکہ خاتون کے سر پر شدید تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔
تمام مقتولین کو تیز دھار آلے سے قتل کیے جانے کا شبہ ہے، کیمیائی تجزیے کے لیے لاشوں سے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق مقتولین کے کپڑوں اور ظاہری خدوخال سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ کراچی کے رہائشی نہیں تھے۔
شناخت کے لیے ڈی این اے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں جنہیں بعد میں کراس میچ کیا جائے گا، اس کے علاوہ مقتولین کی شناخت کے لیے اشتہارات اور خاکے جاری کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اگر تین روز کے اندر مقتولین کی شناخت نہ ہو سکی تو ضابطے کے مطابق لاشوں کی تدفین کر دی جائے گی۔






