تازہ ترین
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026 تحریک انصاف کو عمران خان کی ’بینائی متاثر ہونے کا خدشہ‘سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟ January 27, 2026

جین زی کا المیہ

شاید الفا اور جین زی کو معلوم نہ ہو کہ فضیلہ قاضی کتنی بڑی سپر اسٹار ہیں مگر بومرز اور ملینئلز انہیں بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ فضیلہ قاضی جو اب فضیلہ قیصر کہلاتی ہیں، ان کے فرزند کے انگریزی زبان میں لکھے گئے ایک مضمون کے بہت چرچے ہیں۔ انکا استدلال یا یوں کہیں خیال ہے کہ ’’اقتدار میں بیٹھے ہوئے عمر رسیدہ ٹولے کیلئے اب سب ختم ہو چکا ہے۔ نوجوان نسل وہ سب کچھ خریدنے کو تیار نہیں جو آپ انہیں بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ نوآموز لکھاری کی بات سے طفلان انقلاب نے یہ تاثر لیا کہ شاید میاں نواز شریف، شہباز شریف ،آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان اور اس عمر کے دیگر پی ٹی آئی مخالف سیاستدانوں کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ خود 73سالہ مرشد یعنی قیدی نمبر 804بھی بومر ہیں اور انہی ریٹائرڈ بابوں میں شمار ہوتے ہیں جن کا دور ختم ہوچکا ہے۔

آگے چل کر یہ نوجوان لکھتے ہیں ’’نوجوان ذہن، یعنی جنریشن زی اور الفا، بخوبی جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ عمر رسیدہ لوگوں (Boomers) کیلئے اب سب ختم ہو چکا ہے۔ انکا کوئی مستقبل نہیں۔ نوجوان آبادی اور موجودہ نظام کے درمیان ایک بہت بڑا خلا نظر آتا ہے۔ یہاں کوئی درمیانی راستہ نہیں۔ جنریشن زی تیز انٹرنیٹ چاہتی ہے، جبکہ اقتدار میں بیٹھے لوگ مضبوط فائر وال چاہتے ہیں۔ جنریشن زی سستے اسمارٹ فونز چاہتی ہے، بوڑھے لوگ اسمارٹ فونز پر ٹیکس لگانا چاہتے ہیں۔ جنریشن زی فری لانسنگ پر پابندیوں میں نرمی چاہتی ہے، بوڑھے لوگ فری لانسنگ پر ضابطے بڑھانا چاہتے ہیں۔ انکے درمیان کوئی مشترکہ بنیاد نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ پرانی نسل ہار چکی ہے۔ آپ جتنی چاہیں جنگیں چھیڑ لیں، جنریشن زی انکا مذاق (Memes) بنا دے گی۔ تمام مین اسٹریم میڈیا پر پابندی لگا دیں، جنریشن زی اپنی رائے کے اظہار کیلئے رمبل (Rumble)، یوٹیوب اور ڈسکارڈ جیسے پلیٹ فارمز پر چلی جائے گی۔ آپ کی کوششوں کی بدولت ہمیں جو معیشت وراثت میں ملی ہے وہ آپ کے اخلاق سے بھی بدتر ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود، ہم کتابوں، سوشل میڈیا، کافی شاپس اور ڈبل پیٹی بیف برگرز میں سکون تلاش کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم ان دھندلے پانیوں میں راستہ بنا رہے ہیں۔ ہم آپ کو ٹی وی پر نہیں دیکھتے کیونکہ اکثر اوقات آپ جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ ہذیانی (Hysterical) ہوتا ہے۔ ہمارے پاس اس کیلئے اسٹینڈ اپ کامیڈی موجود ہے، تو مین اسٹریم میڈیا کیوں دیکھیں؟ وقت بدل رہا ہے اور آپ جتنا جلد اسے سمجھ لیں اتنا ہی بہتر ہے۔ لیکن آپ کو پروا بھی نہیں۔ آپ کے بچے بیرون ملک ہیں، آپ روزانہ لاکھوں کما رہے ہیں، آپ بے لگام طاقت کا لطف اٹھا رہے ہیں، آپ بہترین کھانے کھاتے ہیں اور صاف ترین پانی پیتے ہیں، تو آپ کو کیوں پروا ہوگی؟ آپ کو تب احساس ہوگا جب آپ کو معلوم ہوگا کہ اب کوئی آپ کو نہیں سن رہا۔ آپ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ جنریشن زی نے اپنے ہیڈ فون لگا رکھے ہیں اور ان کا اسپاٹی فائی (Spotify) پیڈ ہے، اگر حالات ناقابل برداشت ہو گئے تو آدھے لوگوں کے پاس چھوڑ کر جانے کے وسائل ہوں گے، اور باقی آدھے لوگ آپ کو اپنا میوزک سنوائیں گے، اور وہ بھی اچھے طریقے سے نہیں‘‘۔

آپ کو یاد ہوگا 11ستمبر2025ء کو انہی صفحات پر میرا کالم ــ’’جین زی کا ٹائم بم ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ اس کالم میں، جین زی کے اشکالات پر بات ہوئی تھی۔ ہونہار نوجوان کا مضمون اس جنریشن کے لوگوں کی سوچ اور فکر کا حقیقی آئینہ دار ہے۔ انہوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ ان کے پاس لائبریریاں نہیں ہیں، وہ کتابیں نہیں پڑھتے، سوشل میڈیا پر ہو رہے پروپیگنڈے کو حرف آخر سمجھتے ہیں، چونکہ انہیں تاریخ اور ماضی سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں، اسلئے جب کوئی انہونی ہوتی ہے تو وہ سمجھتے ہیں ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ موضوع کتنا ہی سنجیدہ کیوں نہ ہو، یہ اسے میمز بنا کر ہنسی مذاق میں اُڑانا چاہتے ہیں۔ ’’جین زی‘‘ یا جنریشن زیڈ جنہیں زومرز (Zoomers) بھی کہا جاتا ہے، یہ وہ بچے ہیں جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں پیدا ہوئے ہیں۔ بعض ماہرین عمرانیات کے مطابق 1997ء سے 2012ء کے دوران جنم لینے والے بچے اس جنریشن میں شمار ہوتے ہیں جبکہ کچھ ماہرین 1990ء میں پیدا ہونے والوں کو بھی جنریشن زی میں شمار کرتے ہیں۔ یہ ہمارے عہد کے وہ چالاک بچے ہیں جنہوں نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور گلوبلائزیشن کے زمانے میں آنکھ کھولی، ہاتھوں میں موبائل فون اور ٹیبلٹ لیکر پیدا ہوئے۔ اس نسل کا المیہ یہ ہے کہ معلومات کے سمندر میں ہچکولے کھاتے پھرتے ہیں مگر علم کی پیاس نہیں بجھتی کیونکہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک حقیقت وہی ہے جو سوشل میڈیا پر دکھائی دیتی ہے۔ ان کے ہاں دنیا اس قدر سرعت سے تبدیل ہوئی ہے کہ اب وہ ہر وقت تغیر و تبدل کے منتظر رہتے ہیں۔ بہت جلد اُکتاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ انتظار کی کوفت سے بیزار ہو جاتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ ایک بٹن دبانے سے، کوئی Reel بنانے سے یا ٹرینڈ چلانے سے سارے مسائل حل ہوجائیں۔ انہیں لگتا ہے کسی ایک مضمون کی اشاعت سے سب کچھ بدل سکتا ہے۔ جنریشن زی کی اس بیزاری اور اُکتاہٹ کو ایک طرف پاپولسٹ لیڈر اپنے ایجنڈے کیلئے استعمال کرتے ہیں تو دوسری طرف غیر ملکی طاقتوں کیلئے ناپسندیدہ حکومتیں گرانا اور دشمن ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا آسان ہوگیا ہے۔ مگر ایک بات پر اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ جین زی اور باقی معاشرے کے درمیان کمیونیکیشن گیپ میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملک دشمن قوتیں اسی کمزوری کا فائدہ اُٹھا رہی ہیں۔ جین زی کو بتانے کی ضرورت ہے کہ جن ممالک میں انقلاب آیا وہاں خواب کیسے سراب بن گئے، اس حوالے سے آئندہ کالم میں کچھ حقائق پیش کروں گا۔