جنریشن زی، نئے عہد کی تمہید (محمد عارف خان کھاریاں) دنیا کی تاریخ میں نسلیں آتی رہی ہیں، ہر ایک اپنے عہد کی آواز بن کر۔ آدمِ اوّل کی روایت سے لے کر ملینیئلز کی جدوجہد تک، ہر نسل نے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھا اور اپنی پہچان بنائی۔ مگر جنریشن زی—وہ نوجوان جو 1997 سے 2012 کے درمیان دنیا میں آئے—یہ محض ایک اور نسل نہیں بلکہ ایک نئے عہد کی تمہید ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جو ٹیکنالوجی کی گود میں پلی۔ اسمارٹ فون ان کے لیے ایجاد نہیں بلکہ فطری توسیع ہے۔ انٹرنیٹ سہولت نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ یہ صرف ڈیجیٹل دور کی پیداوار نہیں بلکہ اس کی معمار ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں حقیقت اور مجاز کے درمیان سرحدیں مٹ رہی ہیں۔ جنریشن زی سوال اٹھاتی ہے، روایت کو پرکھتی ہے اور ایک زیادہ شفاف، منصفانہ اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کے خواب دیکھتی ہے۔ عالمی منظرنامے پر اس نسل کی خصوصیات غیر معمولی طور پر واضح ہیں۔ حالیہ عالمی مطالعات کے مطابق جنریشن زی کے نزدیک کامیابی کا مطلب محض کارپوریٹ سیڑھیاں چڑھنا نہیں بلکہ ذہنی سکون، ذاتی شناخت اور مقصدیت ہے۔ یہ حقیقت پسند نسل ہے—اضطراب کا انکار نہیں کرتی بلکہ اسے قبول کر کے آگے بڑھتی ہے۔ ٹیکنالوجی ان کی رگوں میں گردش کرتی ہے یہ نسل جدید ٹولز کو سیکھتی نہیں جیتتی بھی ہے۔ یہ نسل دکھاوے سے بیزار ہے۔ اسے برانڈز سے پہلے اقدار نظر آتی ہیں—ماحولیاتی ذمہ داری، انسانی وقار اور اخلاقی شفافیت۔ خرید و فروخت بھی ان کے نزدیک محض تجارت نہیں بلکہ اخلاقی انتخاب ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا مصنوعی ذہانت اور موسمیاتی بحران کے دہانے پر کھڑی ہے جنریشن زی کا یہ رویہ ایک خاموش مگر گہرا انقلاب ہے۔ تاہم یہ نوجوان ٹیکنالوجی کے اسیر نہیں۔ یہ ایک باشعور، سوال کرنے والی اور بے خوف نسل ہے۔ “کیوں” اور “کیسے” ان کے بنیادی سوالات ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ صرف صارف نہیں بلکہ سمت متعین کرنے والے ہیں۔ ہسٹل کلچر کے مقابل توازن، ڈگری کے مقابل مہارت اور دفتر کے مقابل لچکدار کام—یہ سب تبدیلیاں اسی نسل کی مرہونِ منت ہیں۔ معاشی اور سماجی میدان میں بھی جنریشن زی روایت شکن ہے۔ ریموٹ ورک، اخلاقی ادارے اور سماجی انصاف ان کی ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔ ماحولیاتی تحریکوں سے لے کر سماجی مساوات تک یہ نوجوان ڈیجیٹل طاقت کو عملی اثر میں ڈھال رہے ہیں۔ یہ مستقبل کا انتظار نہیں کرتے—اسے خود تراشتے ہیں۔ بلاشبہ چیلنجز بھی کم نہیں۔ ذہنی دباؤ، معاشی غیر یقینی، قرضوں کا بوجھ اور اے آئی سے جڑے خدشات اس نسل کے مستقل سوالات ہیں۔ مگر یہی مسائل دراصل ان کی طاقت بن جاتے ہیں۔ یہ نسل اختلاف سے گھبراتی نہیں بلکہ تنوع کو حقیقت کے طور پر قبول کرتی ہے۔ یہ مساوات کی بات اس لیے کرتی ہے کہ کسی کو کم تر نہ سمجھا جائے۔ یہ ان لوگوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے جنہیں ماضی میں نظر انداز کیا گیا، جن کی بات نہیں سنی گئی یا جنہیں فیصلہ سازی سے دور رکھا گیا۔ ان کے نزدیک ایک بہتر معاشرہ وہ ہے جہاں ہر انسان کو عزت، انصاف اور اظہار کا حق حاصل ہو۔ پوسٹ پینڈیمک (عالمی وبا کرونا) دنیا میں جہاں نظام ازسرِنو تشکیل پا رہے ہیں جنریشن زی محض ایک سماجی رجحان نہیں بلکہ ایک فکری قوت ہے۔ سیاست، معیشت، میڈیا—ہر شعبہ اس کے اثر کو محسوس کر رہا ہے۔ اب یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ نسل امید کا استعارہ ہے۔ جنریشن زی صرف زندہ رہنے کی جدوجہد نہیں کر رہی— یہ زندہ رہنے کا ہنر سکھا رہی ہے۔ جنریشن زی، تم مستقبل نہیں ہو— تم حال ہو جو کل کو معنی دے رہا ہے۔






