پاسبان نیوز | عالمی سیاست امریکا واحد ملک ہے جس سے چین اور روس خوفزدہ ہیں، نیٹو کی اصل طاقت امریکا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے توازن سے متعلق متنازع مگر دوٹوک دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا وہ واحد ملک ہے جس سے چین اور روس خوف محسوس کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نیٹو کا حصہ نہ ہوتا تو روس اور چین کو اس عسکری اتحاد سے کسی قسم کا خوف نہ ہوتا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق نیٹو کی اصل قوت اور مؤثر حیثیت کا دارومدار امریکی عسکری طاقت، وسائل اور قیادت پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نہ صرف نیٹو کا سب سے بڑا مالی معاون ہے بلکہ اس کی فوجی صلاحیت ہی اس اتحاد کو عالمی سطح پر مؤثر بناتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ امریکا کے بغیر نیٹو ایک کمزور اتحاد بن کر رہ جائے گا، جس سے روس اور چین جیسے ممالک کو کوئی سنجیدہ خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ہمیشہ اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے مرکزی کردار ادا کیا، مگر کئی ممالک اس بوجھ کو منصفانہ طور پر تقسیم نہیں کرتے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان ایک جانب امریکا کی عالمی بالادستی کے دعوے کی عکاسی کرتا ہے تو دوسری جانب نیٹو اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات عالمی سیاست میں نئی بحث کو جنم دے سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا، چین اور روس کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔
بیجنگ: چین نے عالمی سطح پر امریکا کے رویّے پر سخت تنقید کرتے ہوئے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکی تکبر اور غرور کا خاتمہ ہونا چاہیے اور نوآبادیاتی ذہنیت کو مکمل طور پر اکھاڑ پھینکنا وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
چینی حکام کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرنے، بالادستی کے دعووں اور یکطرفہ اقدامات کی پالیسی مہذب دنیا کے لیے اب قابلِ قبول نہیں رہی۔ چین کا کہنا ہے کہ عالمی نظام کو باہمی احترام، خودمختاری کے اصول اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے، نہ کہ طاقت اور دباؤ کی سیاست پر۔
چین نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ممالک برابری کی سطح پر تعاون چاہتے ہیں، جبکہ سرد جنگ کی سوچ اور نوآبادیاتی طرزِ فکر عالمی امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ چینی مؤقف کے مطابق عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ یکطرفہ بالادستی کے رجحانات کی حوصلہ شکنی کرے اور کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق چین کا یہ بیان عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور عالمی نظام کی تشکیلِ نو کے تناظر میں نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے، جو آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سفارتی صف بندی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔






