تازہ ترین
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026 تحریک انصاف کو عمران خان کی ’بینائی متاثر ہونے کا خدشہ‘سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟ January 27, 2026

پی ایس ایل وی راکٹ کی مسلسل دوسری ناکامی جسے انڈین خلائی ادارے کے لیے ایک ’بڑا دھچکا‘ قرار دیا جا رہا ہے

پاسبان نیوز عالمی : 16 پے لوڈز، ایک ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ اور دیگر آلات سے لیس انڈین راکٹ لانچ کے بعد اپنے مقررہ راستے سے ہٹا تو یہ واقعہ انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا کیونکہ پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) کو عام طور پر انتہائی قابل اعتماد لانچ گاڑی سمجھا جاتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی رؤئٹرز کے مطابق یہ تقریباً آٹھ مہینوں میں پی ایس ایل وی کی دوسری ناکامی ہے حالانکہ اب تک تقریباً 60 مشنز میں اس کی کامیابی کی شرح 90 فیصد سے زیادہ رہی ہے۔

پی ایس ایل وی-C62 کو پیر کے روز صبح 10:18 بجے سری ہری کوٹا کے ستیش دھون خلائی مرکز سے خلا میں بھیجا گیا، جس میں EOS-A1 مشاہداتی سیٹلائٹ کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں اور انڈیا و بیرون ملک کے سٹارٹ اپس کے تیار کردہ 15 دیگر پے لوڈ شامل تھے۔

اسرو کے مشن کنٹرول کے مطابق راکٹ نے زیادہ تر پرواز کے دوران معمول کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کیا، تاہم بعد میں ایک غیر متوقع خرابی سامنے آئی جس کے باعث راکٹ اپنے مقررہ راستے سے ہٹ گیا۔

اسرو نے ایک بیان میں کہا: ’PS-3 مرحلے کے اختتام پر پی ایس ایل وی-C62 مشن کو ایک بے ضابطگی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک جامع تجزیہ شروع کر دیا گیا ہے۔‘ تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اصل میں کیا خرابی ہوئی یا راکٹ آخر کہاں گرا۔

اسرو کے سربراہ وی نارائنن نے کہا: ’PSLV-C62/EOS-N1 مشن کے دوران راکٹ کے پرواز کے راستے میں انحراف دیکھا گیا۔ مشن مطلوبہ راستے پر آگے نہیں بڑھ سکا۔ ہمیں تمام زمینی سٹیشنوں سے ڈیٹا موصول ہوا ہے اور ہم اس کا تفصیلی تجزیہ کر رہے ہیں۔‘

پی ایس ایل وی انڈیا کے خلائی پروگرام کا ایک اہم ستون رہا ہے جس نے چندریان-1 اور آدتیہ-L1 شمسی آبزرویٹری جیسے مشنز کامیابی سے لانچ کیے ہیں۔