تازہ ترین
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026 تحریک انصاف کو عمران خان کی ’بینائی متاثر ہونے کا خدشہ‘سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟ January 27, 2026

بلدیاتی کالے قانون کے خلاف عوامی ریفرنڈم، لیاقت بلوچ کا دورۂ گجرات، کچہری چوک میں ریفرنڈم کیمپ کا معائنہ، ووٹنگ میں شرکت اور خطاب

پاسبان نیوز | گجرات پنجاب حکومت کے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے صوبہ بھر میں جاری عوامی ریفرنڈم کے سلسلے میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے گجرات کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر گجرات کے مرکزی مقام کچہری چوک میں قائم ریفرنڈم کیمپ پر ووٹنگ کا عمل جاری رہا، جہاں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے بلدیاتی قانون کو مسترد کرنے کے حق میں اپنی رائے دی۔

ریفرنڈم کیمپ پر امیر جماعت اسلامی شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم، جماعت اسلامی ضلع گجرات کے قائدین اور کارکنان بھی موجود تھے۔ لیاقت بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں نے خود ووٹنگ میں حصہ لیا اور عوامی ریفرنڈم کے عمل کو جمہوری جدوجہد کا عملی اظہار قرار دیا۔

اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ پنجاب کا موجودہ بلدیاتی قانون دراصل عوام سے اختیارات چھیننے کی کوشش ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے بغیر عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں اور نچلی سطح پر جمہوریت کو مضبوط کیے بغیر ملک میں حقیقی تبدیلی نہیں آ سکتی۔

انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اس کالے قانون کے خلاف آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد جاری رکھے گی اور عوامی ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی اصل رائے حکمرانوں کے سامنے لائی جائے گی۔ لیاقت بلوچ نے عوام کی بھرپور شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریفرنڈم اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام بیوروکریسی کے تسلط اور جعلی جمہوریت کو مسترد کر چکے ہیں۔

اس موقع پر ڈاکٹر طارق سلیم اور دیگر مقامی قائدین نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گجرات سمیت پنجاب بھر میں عوامی ریفرنڈم کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے، جو اس بات کا عندیہ ہے کہ عوام بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کے لیے متحد ہو چکے ہیں۔

ریفرنڈم کیمپ پر عوام کی آمد کا سلسلہ دن بھر جاری رہا، جہاں شہریوں نے جماعت اسلامی کی اس جدوجہد کو سراہتے ہوئے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ جماعت اسلامی قیادت کے مطابق عوامی ریفرنڈم کے نتائج کو مرتب کر کے متعلقہ آئینی و جمہوری فورمز پر پیش کیا جائے گا۔