تازہ ترین
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے February 3, 2026 پاکستان اور برونائی دارالسلام کے تعلقات: پس منظر، دوستی اور تعلقات کی نوعیت February 3, 2026 پاکستان اور کویت کے دوستی تعلقات: تاریخ، پس منظر، نوعیت اور اہمیت February 3, 2026 سری لنکا: تہذیب، فلاحِ عامہ اور مؤثر طرزِ حکومت کی کامیاب مثال February 3, 2026 پاکستان اور سری لنکا: دوستی، تعاون اور استحکام February 3, 2026 پاکستان کے ساتھ مئی کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ: ’نئے لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے February 2, 2026 وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت February 2, 2026 اسلامی جمہوریہ ایران میں پرامن احتجاجات سے فسادات، پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں تک January 29, 2026 صدر نیشنل پریس کلب کوٹلہ چوہدری علی اختر سعید نے وفد کے ہمراہ گلیانہ پریس کلب کا دورہ کیا۔ January 27, 2026 تحریک انصاف کو عمران خان کی ’بینائی متاثر ہونے کا خدشہ‘سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟ January 27, 2026

جین زی کے ساتھ ایک مشترکہ سفر کا روڈمیپ (محمدعارف خان)

محمد عارف خان کھاریاں

عالمی افق پر نسلیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ سی نظر آتی ہیں ہر ایک اپنے دور کے درد اور خوابوں کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی۔ جین زی جو ڈیجیٹل انقلاب کی گود میں پل کر بڑھی ہے اس کی روح میں ٹیکنالوجی کی تیز رفتار نبض دوڑتی ہے جہاں ماحولیاتی تباہی ایک وجودی خوف ہے، ذہنی سکون ایک دور کی چیز اور معاشی استحکام ایک خوابِ شب۔ دوسری جانب قریب کی نسلیں جو روایات کی چادر اوڑھے، معاشی جدوجہد کی آگ میں تپ کر نکلی ہیں زندگی کی تلخ اور میٹھی یادوں کے ذخیرے لیے بیٹھی ہیں۔ ان کی آنکھیں جین زی کی بے باک اور تیز سوچ کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہیں اور جین زی سابقین کی خاموشی اور صبر کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔ یہ خلیج نہ صرف دل کی دوری ہے بلکہ معاشرے کی ترقی میں ایک پوشیدہ رکاوٹ بھی ہے مگر اس کا علاج ممکن ہے۔ ایک ایسا راستہ جو دونوں کو ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکنے دے، ایک ہی کشتی میں بٹھائے اور ایک مشترکہ منزل کی طرف لے جائے۔
پہلا قدم ادراک کا ہے اور ادراک سننے سے جنم لیتا ہے۔ نسل سابق کو جین زی کی دنیا میں قدم رکھنا چاہیے—وہ دنیا جہاں سوشل میڈیا کی لہریں دل کی دھڑکنوں کو تیز کر دیتی ہیں جہاں نوکریوں کی غیر یقینی صورت حال مستقبل کے نقشے کو دھندلا کر دیتی ہے اور جہاں ماحولیاتی بحران ایک دور کی بات نہیں بلکہ آنکھوں کے سامنے کھڑی حقیقت ہے۔ اس لیے باہمی مکالمے کا آغاز ضروری ہے خاندانی محفلوں میں، کمیونٹی کے حلقوں میں یا خاموش آن لائن کمروں میں، جہاں جین زی اپنے درد کو الفاظ دے اور پہلے کی نسل اپنے تجربات کی روشنی میں سنے۔ یہ سننا محض الفاظ جمع کرنا نہیں بلکہ دل کی دوری مٹانا ہے۔ جب پہلے والی نسل جین زی کی جدوجہد کو محسوس کرے گی تو وہ دیکھے گی کہ یہ نوجوان نہ صرف مسائل کا شکار ہیں بلکہ ان کے حل کی تلاش میں بھی پیش پیش ہیں۔ یہ ادراک ہی باہمی احترام کی بنیاد رکھے گا۔
دوسرا قدم مشترکہ زخموں کی تلاش ہے۔ دونوں نسلوں کے درد الگ الگ لگتے ہیں مگر گہرائی میں دیکھیں تو ایک ہی ہیں معاشی دباؤ، صحت کی تلاش اور سماجی انصاف کی خواہش۔ جین زی کی مالی ناپائیداری اور سابقین کی ریٹائرمنٹ کی فکر ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اس لیے مشترکہ محفلیں سجائی جائیں جہاں دونوں مل کر اپنے مسائل کی فہرست بنائیں اور دیکھیں کہ کون سے زخم سب کے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف خلیج کو پاٹے گا بلکہ یہ احساس دلائے گا کہ ہم ایک ہی طوفان میں ہیں اور اس طوفان سے نکلنے کے لیے مل کر کشتی چلانی ہے۔
تیسرا قدم باہمی سیکھنے کا ہے۔ سابق نسل جین زی کو زندگی کی وہ حکمت دے سکتی ہے جو برسوں کی آزمائشوں سے نکلی ہے—استقامت، رشتوں کی گہرائی اور طویل سوچ۔ جین زی ان کو نئی دنیا کی زبان سکھا سکتی ہے۔ ڈیجیٹل مہارت، تیز فیصلہ سازی اور بے باک سوچ۔ اس تبادلے کے لیے mentorship کے پل بنائے جائیں۔ کام کی جگہ پر، گھر کے آنگن میں یا ورچوئل کمروں میں جہاں ایک دوسرے کو علم کا تحفہ دیا جائے۔ یہ نہ صرف علم کا پل ہے بلکہ دل کا پل بھی ہے جو دونوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ایک دوسرے کے بغیر سفر ادھورا ہے۔
چوتھا قدم مواصلات کی نئی زبان تلاش کرنے کا ہے۔ جین زی کی تیز، مختصر اور ڈیجیٹل زبان سابقین کی روایتی، مفصل اور صبر طلب گفتگو سے ٹکراتی ہے۔ اس ٹکراؤ کو پل میں بدلنے کے لیے واضح اصول وضع کیے جائیں۔ بات چیت میں توازن، الفاظ میں وضاحت اور جذبات میں شفقت۔ یہ اصول تنازعات کو کم کریں گے اور تفہیم کو گہرا کریں گے۔
پانچواں قدم مشترکہ اقدار اور منزل کی تلاش ہے۔ دونوں نسلوں کو مل کر یہ طے کرنا چاہیے کہ ہم کون سی دنیا چاہتے ہیں۔ ایک دنیا جہاں مساوات ہو، پائیداری ہو اور انصاف ہو۔ اس کے لیے ویژن کی محفلیں سجائی جائیں جہاں دونوں مل کر خواب دیکھیں اور منزل کا نقشہ کھینچیں۔ یہ منزل نہ صرف ہدف دے گی بلکہ دونوں کو ایک مشترکہ سفر کا حصہ بنائے گی۔
چھٹا قدم تنوع اور شمولیت کی راہ ہموار کرنے کا ہے۔ معاشرے اور کام کی جگہ پر ایسی فضا بنائی جائے جہاں دونوں نسلیں برابر کی شراکت دار ہوں۔ تربیت، مشاورت اور باہمی احترام کی پالیسیاں اس راہ کی روشنی ہیں۔ یہ قدم تعصبات کو مٹاتا ہے اور مشترکہ کامیابی کی بنیاد رکھتا ہے۔
ساتواں قدم عملی اشتراک کا ہے۔ دونوں کو مل کر کام کرنے دیا جائے۔ کمیونٹی کی بہتری، سماجی مہمات یا مشترکہ مسائل کی تلاش میں۔ یہ عملی قدم ہم آہنگی کو محسوس کرواتا ہے اور یہ یقین دلاتا ہے کہ مل کر ہم زیادہ طاقتور ہیں۔
آخری قدم مسلسل جائزہ اور موافقت کا ہے۔ یہ سفر جامد نہیں بلکہ زندہ اور لچکدار ہے۔ وقتاً فوقتاً بیٹھیں، گفتگو کریں، پیشرفت دیکھیں اور ضروری تبدیلیاں لائیں۔ یہ مسلسل رابطہ یقینی بنائے گا کہ کشتی کا سفر جاری رہے اور منزل قریب آتی جائے۔ یہ روڈ میپ محض ایک خاکہ نہیں بلکہ ایک دعوت ہے۔ دعوتِ ادراک، دعوتِ احترام، دعوتِ مشترکہ سفر۔ جب جین زی کی بے باکی اور سابق نسل کی حکمت مل کر چلیں گی تو ایک نئی دنیا کی بنیاد رکھی جا سکے گی—ایک دنیا جہاں نہ صرف نسلیں الگ الگ نہیں رہیں گی بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل بنیں گی۔ یہ سفر ادراک سے شروع ہوتا ہے اور ہم آہنگی پر ختم ہوتا ہے—ایک منزل جہاں سب جیتتے ہیں۔