دسمبر 2025ء تا جنوری 2026ء کے دوران فسادیوں کی پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں سے متعلق وضاحتی رپورٹ اور تصویری شواہد)
(
آج کے دور میں سماجی بے چینی دنیا بھر کی معاشروں کی روزمرہ حقیقت بن چکی ہے۔ پُرامن احتجاجات کی حمایت کی جانی چاہیے۔ تاہم، فطری طور پر جب احتجاجات پُرامن دائرے سے نکل کر عوامی نظم و ضبط، عوامی صحت اور عوامی سلامتی کے خلاف ہو جائیں تو حکومتیں صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات کرتی ہیں۔
اتوار، 28 دسمبر 2025ء (مطابق 7 دی 1404ھ ش)، زرِ مبادلہ کی شرح میں اضافے کے بعد تہران کے گرینڈ بازار میں بعض دکانداروں کی جانب سے تجارتی نوعیت کے احتجاجی اجتماعات منعقد ہوئے۔ ابتدا میں یہ اجتماعات پُرامن، پیشہ ورانہ اور مطالبات پر مبنی تھے اور شرکاء نے عوامی نظم میں خلل ڈالے بغیر پُرسکون انداز میں اپنے مطالبات پیش کرنے کی کوشش کی۔
تاہم، 18 دی کے بعد ان احتجاجات کا ایک بڑا حصہ اپنی پُرامن نوعیت سے ہٹ کر فسادات اور تخریب کاری میں تبدیل ہو گیا۔ تشدد کے خواہاں فسادی عناصر نے عوام کے روزگار سے متعلق احتجاجات کو ہائی جیک کر کے انہیں ان کے اصل مقصد سے ہٹا دیا۔ تباہی کی وسعت، تشدد کی شدت، مرکزی گروہوں کا مسلح ہونا، سرکاری، نجی، مذہبی، طبی اور ٹرانسپورٹ سہولیات اور دکانوں پر منظم اور منصوبہ بند حملے، اور مجموعی طور پر تشدد کی سطح اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ ملک میں بدامنی اور عدم تحفظ پیدا کرنے کے لیے ایک منظم اور سوچا سمجھا منصوبہ موجود تھا۔
آزادیٔ اظہار اور پُرامن اجتماع کے حقوق کا احترام اور تحفظ
پُرامن اجتماع کا حق اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین اور قانونی نظام دونوں میں تسلیم شدہ ہے۔ جب تک شرکاء سلامتی، عوامی نظم و ضبط یا سرکاری و نجی املاک کی تباہی کے خلاف اقدامات نہیں کرتے، ان کی حمایت کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات، بشمول شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) کا آرٹیکل 21، کسی اجتماع کی پُرامن نوعیت کو اس کے تحفظ کے لیے بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون، بشمول ICCPR، کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری پر زور دیتا ہے، خصوصاً آزادیٔ اظہار اور پُرامن اجتماع کے حقوق کے احترام اور تحفظ کے حوالے سے۔ یہ حقوق آئینِ اسلامی جمہوریہ ایران اور داخلی قانونی فریم ورک میں ضمانت یافتہ ہیں اور سماجی و معاشی امور میں عوامی شرکت کے بنیادی عناصر تصور کیے جاتے ہیں۔

ایران میں ہر سال عوام کی جانب سے بے شمار پُرامن احتجاجات اور اجتماعات بغیر کسی مسئلے کے منعقد ہوتے ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں جو کچھ ہوا وہ پُرامن اجتماع نہیں تھا بلکہ ایک چھوٹے سے گروہ کی جانب سے کیے گئے فسادات اور دہشت گردانہ کارروائیاں تھیں، جنہیں امریکہ اور صیہونی رژیم کی حمایت حاصل تھی، دشمن ممالک سے وابستہ بعض میڈیا اداروں نے انہیں ہوا دی، اور دہشت گرد گروہوں کی رہنمائی اور معاونت بھی شامل تھی۔ ان واقعات کے دوران فسادیوں نے معصوم شہریوں کے قتل و زخمی کرنے سے لے کر سرکاری و نجی املاک کی تباہی اور قوم پر بھاری مالی بوجھ ڈالنے تک کسی بھی حد سے گریز نہیں کیا۔

فسادات کے دوران متعدد سرکاری و نجی املاک کو نذرِ آتش کیا گیا یا لوٹ لیا گیا۔ فسادیوں کی فائرنگ اور نوکیلے ہتھیاروں کے استعمال کے باعث بڑی تعداد میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور عام شہری جاں بحق یا زخمی ہوئے۔ شہری انتظامی مراکز اور عوامی خدمات کی سہولیات—جیسے بینک، اے ٹی ایم، مریضوں کو لے جانے والی ایمبولینسیں، عوامی ٹرانسپورٹ، پولیس گاڑیاں، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور مذہبی مقامات—منظم اور وسیع پیمانے پر حملوں کا نشانہ بنیں، جن میں سے کئی کو تباہ یا نذرِ آتش کر دیا گیا، حتیٰ کہ بعض پولیس اسٹیشنز بھی جلائے گئے۔

فسادیوں کی یہ مجرمانہ کارروائیاں، جن کا مقصد سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچانا تھا، حقِ ملکیت، نقل و حرکت کی آزادی، سلامتی و تحفظ، حقِ روزگار، جسمانی و ذہنی صحت اور عوامی خدمات تک رسائی کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ لہٰذا ایسے حالات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر یہ قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سلامتی، تحفظ اور عوامی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب اور قانونی اقدامات کریں۔
یہ بات واضح ہے کہ ہتھیاروں اور دہشت پھیلانے والے آلات کا استعمال، عوام اور پولیس پر تشدد، سرکاری، عوامی اور نجی املاک و تنصیبات پر حملے اور انہیں آگ لگانا کسی صورت پُرامن احتجاج کے زمرے میں نہیں آتا اور اس سے قانونی ذمہ داریاں جنم لیتی ہیں۔ ان حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی پولیس تمام شہریوں کے لیے امن و امان بحال کرنے کی قانونی طور پر پابند ہے۔
فسادات اور اندرونی سلامتی کے خلاف خطرات سے نمٹنے کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی کم سے کم طاقت کے استعمال پر مبنی ہے۔ موجودہ صورتحال میں فسادیوں نے امن برقرار رکھنے والی فورسز کی برداشت اور ضبط کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تشدد کا سہارا لیا اور حتیٰ کہ عسکری اور مسلح مرحلے میں داخل ہو گئے۔
غیر ملکی عناصر کی مداخلت
اس تناظر میں امریکہ اور بعض مغربی ممالک نے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی کے تحت مکمل طور پر غیر معمولی اقدامات کیے اور فسادیوں کی حمایت میں ایران کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کی۔ امریکہ اور بعض مغربی ممالک کے حکام کے بیانات حالیہ فسادات کے تسلسل اور شدت میں غیر ملکی عناصر، اشتعال انگیزی اور بعض حکومتوں کے کردار کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔
فسادیوں کی داعش نما اور دہشت گردانہ کارروائیوں سے متعلق بعض تصویری شواہد اور دستاویزات
پُرتشدد فسادات کے دوران بے شمار سرکاری و نجی مقامات اور املاک کو نذرِ آتش کیا گیا یا لوٹ لیا گیا۔ ان میں غیر فوجی انتظامی اور عوامی خدمات کے مراکز—جیسے بینک، اے ٹی ایم، ایمبولینسیں (جو مریض منتقل کر رہی تھیں)، عوامی ٹرانسپورٹ گاڑیاں، پولیس کاریں، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور مذہبی مقامات—پر منظم اور وسیع حملے شامل تھے، جن میں سے کئی کو تباہ یا جلا دیا گیا۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رہائشی مکانات کو بھی فسادیوں نے آگ لگا دی۔
تہران کے میئر کے مطابق، دارالحکومت میں ہونے والے نقصانات میں 42 بسوں، عوامی گاڑیوں اور ایمبولینسوں، 10 سرکاری اداروں اور 24 رہائشی گھروں کی تباہی اور جلاؤ شامل ہے۔ مزید برآں، 70 سے زائد مساجد، حسینیہ جات اور مذہبی مراکز کو بھی فسادیوں نے تباہ کر کے آگ لگا دی۔





